The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 566

The Light of Truth — Page 162

162 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE لا تقولوا لى صالحا ، ثم يجعلونه شريك البارئ ويحسبونه رب العالمين، ويقولون ما يقولون ولا يخافون يوم الدين. ويظنون أن المسيح صُلب ولعن لأجل معاصيهم وأخذ لإنجائهم وعذب لتخليصهم، وأن الخلق أحفظ الأب بذنوبهم، وكان الأب فظا غليظ القلب سريع الغضب، بعيدا عن الحلم والكرم، مغتاظا كالحرق المضطرم، فأراد أن يُدخلهم في النار، فقام الابن ترحما على الفجار، وكان حليما رحيما كالأبرار، فمنع الأب من قهره وزيادته، فما امتنع وما رجع من إرادته، فقال الابن يا أبت إن كنت أزمعت تعذيب الناس وإهلاكهم بالفأس، ولا تمتنع ولا تغفر ، ولا ترحم ولا تزدجر، فها أنا أحمل أوزارهم وأقبل ما أبارهم، فاغفر لهم وافعل بي ما تريد، إن كان قليلا أو يزيد. فرضى الأب على أن يصلب ابنه لأجل خطايا الناس، فنجي المذنبين وأخذ المعصوم وعذبه بأنواع البأس كالمذنبين. هذا ما قالوا، ولكن العجب من الأب الذى كان نشوانًا أو فى السبات أنه نسي عند صليب ابنه ماكتب في التوراة وقال لا أُهْلِكُ إلا الذى عصاني، ولا أخذ أحدًا مكان أحد من العصاة، فنكث العهد وأخلف الوعد، وترك العاصين وأخذ أحدًا من المعصومين. لعله ذهل قوله السابق من كبر السن وأرذل العمر وكان من المعمرين. لوگ اس کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کو رب العالمین سمجھتے ہیں اور جو کہتے ہیں سو کہتے ہیں اور قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے۔ اور یہ خیال کر رہے ہیں کہ مسیح ان کے گناہوں کے لئے مصلوب اور ملعون ہوا اور ان کے بچانے کے لئے ماخوذ اور معذب ہوا اور خلقت نے باپ کو اپنے گناہوں سے غصہ دلایا اور باپ سخت دل سريع الغضب تھا حلم اور کرم اس میں نہیں تھا بلکہ غصے سے آگ کی طرح بھڑکا ہوا تھا سو اس نے چاہا کہ خلقت کو دوزخ میں ڈالے سو بیٹا بدکاروں پر رحم رحم کر کے شفاعت کے لئے کھڑا ہو گیا اور بیٹا حلیم اور رحیم اور نیک آدمی تھا پس اس نے اپنے باپ کو قہر اور زیادت سے منع کیا مگر باپ اپنے ارادہ سے باز نہ آیا سو بیٹے نے کہا کہ اے باپ اگر تیرا یہی ارادہ ہے کہ لوگوں کو ہلاک کرے اور کسی طرح تو ان کو نہیں بخشا اور نہ رحم کرتا ہے سو میں تمام لوگوں کے گناہ اپنی گردن پر لے لیتا ہوں سو ان کو تو بخش دے اور جو تو نے عذاب دینا ہے وہ مجھے عذاب دے سو اس کلمہ سے باپ غضبناک راضی ہو گیا اور اس کے حکم سے بیٹا پھانسی دیا گیا تا گناہ گاروں کو چھڑاوے اور گناہ گاروں کی طرح اس معصوم پر عذاب ہوا۔ یہ وہ باتیں ہیں جو عیسائی کہتے ہیں لیکن باپ سے تعجب ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو پھانسی دینے کے وقت اپنے اس قول کو بھول گیا جو توریت میں کہا تھا کہ میں اسی کو ہلاک کروں گا جو میرا گناہ کرے اور میں ایک کی جگہ دوسرے کو نہیں پکڑوں گا سو اس نے عہد کو توڑا اور وعدہ کے خلاف کیا اور گناہ گاروں کو چھوڑ دیا اور ایسے آدمی کو پکڑا جس پر کوئی گناہ نہیں تھا۔ شاید وہ اپنا پہلا قول باعث بڑھاپے اور پیرانہ سالی کے بھول گیا کیونکہ معمر تھا۔