The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 566

The Light of Truth — Page 96

96 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE السماء في حديث صحيح، وما نجد نظير النزول في أمم أولى، بل يثبت خلافه في قصة يوحنا . فلا شك أن هذه العقيدة. أعنى عقيدة نزول المسيح من السماء . مبتلاة بأمراض لا بمرض واحد يخالف بينات القرآن، ويكذب أمر ختم النبوة، ويباين محاورات القوم، ويخالف الآثار التي صرحت فيها موت المسيح. فتفكروا أيها الناس إن كنتم من المتفكرين. وأما الشق الثانى أعنى محاربات المسيح الموعود بعد النزول، كما هو زعم بعض الناس الذي ما كان إلا كالغبى الجهول، فهو ليس مذهبنا، بل عند نا هو خيال باطل لا يصلح للقبول، وبعيد عن الحق واليقين وداخل في نمط الفضول. وكفى لبطلانه الحديثُ الذى موجود في البخاري. أعنى «يضع الحرب»، يعنى لا يقاتل المسيح الموعود ولا يحارب، بل يفعل كل ما يفعل بالنظر والهمة، ويجعل الله في نظره تأثيرات عجيبة، وفى أنفاسه بركات غريبة، ويجعل في فهمه وعقله قوة السيف والسنان، ويعطى له بيانا مملوا من البرهان، وحججًا قاطعة لعذرات أهل الطغيان. فهذه هي الحربة ا. (الفائدة) قال الله تعالى إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَى صُحُفِ ابْرَاهِيمَ وَمُوسى * ولكنا لا نجد ذكر صعود عيسى و ذكر نزوله في التورة ولا مثالا يشابهه و ان التوراة امام لذكر الامثلة كلها ولاجل ذلك سماه الله اماما في كتاب مبين. منه * الاعلى : ١٩، ٢٠ الناشر کے مغائر پڑا ہے اور ان احادیث کے برعکس ہے جن میں حضرت عیسیٰ کی موت کی تصریح ہے پس اے لوگو فکر کرو اگر فکر کر سکتے ہو۔ اور دوسرا شق یعنی یہ کہ مسیح موعود اترنے کے بعد لڑائیاں کرے گا جیسا کہ بعض جہال کا خیال ہے پس یہ ہمارا مذہب نہیں ہے اور ہمارے نزدیک یہ خیال باطل اور فضول ہے جو لائق قبول نہیں اور حق اور یقین سے بعید ہے اور اس کے باطل کرنے کے لئے وہ حدیث کافی ہے جو صحیح بخاری میں لکھی ہے یعنی قول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یضع الحرب جس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود کفار سے نہیں لڑے گا اور نہ جنگ کرے گا بلکہ جو کچھ کرے گا اپنی نظر اور ہمت سے کرے گا اور خدا اس کی نظر میں عجیب عجیب تاثیرات رکھ دے گا اور اس کے فہم اور عقل کو تلوار اور نیزہ کی قوت دے گا اور اس کو دلائل سے بھرا ہوا بیان عطا کرے گا اور ایسی حجتیں اس کو سکھلائے گا جو اہل طغیان کا قطع عذرات کریں پس یہی آسمانی حربہ ہے جس کو انسان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا بلکہ رحمان کے ہاتھوں سے ملا ہے۔ اور آسمان سے نازل ہوا ہے نہ زمین کی کارستانیوں سے پس خلاصہ کلام یہ ہے جو ہمارا اعتقاد یہی ہے جو ہم نے ذکر کر دیا نہ جیسا کہ اس نکتہ چین کند ذہن اور سفلہ مزاج نے سمجھا اور وہ ہمارے نزدیک صریح غلطی ہے اور ہم ایسے قائل کا تخطیہ کرتے ہیں بیشک خطا کی جس نے ایسا کہا اور صریح ضلالت میں پڑ گیا۔ پس وہ حق جو ہم کو حکیم مطلق نے دکھلایا اور لطیف علیم نے بتلایا وہ یہی ہے کہ مسیح موعود کا حربہ آسمانی ہے نہ زمینی اور