The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 566

The Light of Truth — Page 86

86 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE أُمَّةٌ يقتلون الكفار ويدخلونهم جبرًا في دينهم. وقال جَادِلْهم (أى جادل النصارى) بالحكمة والموعظة الحسنة، وما قال اقتلوهم بالسيوف والصوارم إلا بعد صدهم عن سبيل الله ومكرهم لإطفاء نور الإسلام وقيامهم في مقام المعادين، فانظر ما قال ربنا ربّ العالمين. وقد بينا لك أن الحرب ليس من أصل مقاصد القرآن ولا من جذر تعليمه، وإنما هو جوّز عند اشتداد الحاجة وبلوغ ظلم الظالمين إلى انتهائه واشتعال جور الجائرين. ولكم أسوة حسنة في غزوات رسول الله صلى الله عليه وسلم، كيف صبر على ظلم الكفار إلى مدة يبلغ فيه صبي إلى سن بلوغه، فصبر. وكان الكفار يؤذونه في الليل والنهار. ينهبون أموال المؤمنين كالأشرار، ويقتلون رجالهم ونساءهم بتعذيبات تتحدر بتصورها دموع العيون وتقشعر قلوب الأخيار، وكذلك بلغ الإيذاء إلى انتهائه حتى هموا بقتل نبي الله، فأمره ربّه أن يترك وطنه ويهرب إلى المدينة مهاجرا من مكة، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من وطنه بإخراج قومه . ومع . ذلك ما كان الكفار منتهين، بل لم يزل الفتن منهم تستعر، ومحجّة الدعوة تَعرُّ، حتى جلبوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم خيلهم ورَجِلَهم، وضربوا خيامهم في ميادين بدر بفوج كثير قريبًا من المدينة، وأرادوا استيصال الدين. فاشتعل غضب الله عليهم ورأى قبح جفائهم وشدة اعتدائهم، عالموں کا رب ہے کیسا کچھ فرمایا ہے۔ اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ لڑائی اور جہاد اصل مقاصد قرآن میں سے نہیں اور وہ صرف ضرورت کے وقت تجویز کیا گیا ہے یعنی ایسے وقت میں جبکہ ظالموں کا ظلم انتہا تک پہنچ جائے اور پیروی کرنے کے لئے طریق عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہتر ہے دیکھو کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ایذا پر اس زمانہ تک صبر کیا جس میں ایک بچہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جاتا ہے اور کافر لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ دکھ دیتے اور رات دن ستاتے اور شریروں کی طرح ان کے مالوں کو لوٹتے اور مسلمانوں کے مردوں اور عورتوں کو قتل کرتے اور ایسے بڑے بڑے عذابوں سے مارتے کہ ان کے یاد کرنے سے آنکھوں کے آنسو جاری ہوتے ہیں اور نیک آدمیوں کے دل کانپتے ہیں اور اسی طرح دکھ انتہا کو پہنچ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن سے نکالے گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا قصد کیا سو اس کے رب نے اس کو حکم دیا تاوہ مدینہ بھاگ جائے سو آنحضرت اپنے وطن سے کفار کے نکالنے سے ہجرت کر گئے اور ابھی کفار نے ایذا رسانی میں بس نہیں کی تھی بلکہ وہ فتنے بھڑکاتے اور دعوت کے کاموں میں مشکلات ڈالتے یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر معہ اپنے سواروں اور پیادوں کے چڑھائی کی اور بدر کے میدان میں جو مدینہ سے قریب ہے اپنی فوج کے خیمے کھڑے کر دیئے اور چاہا کہ دین کی بیخ کنی کر دیں تب خدا کا غضب ان پر بھڑ کا اور اس نے ان کے بڑے ظلم اور سختی کے ساتھ حد سے تجاوز کرنا مشاہدہ کیا سو اس نے اپنی وحی اپنے رسول پر اتاری اور کہا کہ مسلمانوں کو خدا نے دیکھا جو ناحق ان کے قتل کے لئے ارادہ کیا گیا ہے اور وہ مظلوم ہیں اس لئے انہیں مقابلہ کی اجازت ہے اور خدا قادر ہے جو ان کی مدد کرے سو خدا تعالیٰ نے اپنے رسول مظلوم کو اس آیت میں ان لوگوں کے مقابل پر ہتھیار