خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 805 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 805

۳۱۳ ۳۸۳ ۴۰۲ ۴۳۱ ۴۵۶ ۴۵۷ ۵۳۴ ۵۳۹ ولده ۵۴۰ ۵۴۲ ۵۸۱ ۵۸۷ ۵۸۹ ۶۰۸ ۶۰۸ 11 ۳۲۵ حقیقی امن جماعت احمدیہ کے مخلصین ۔ ر مخلصین سے وابستہ ہے کے دل کے حالات معلوم کر سکے عالمی امن رحمۃ اللعالمین کے دست شفقت سے ہی مل سکتا ہے ۶۷۹ انسانی تعلقات میں مختلف رخنے امن عالم کو سب سے بڑا خطرہ عصبیت اور خود غرضی سے ہے ۶۷۹ آخری سانس تک ثبات قدم انسان کی آخری تمنا اصلاح انسان کے اپنے بس کی بات نہیں جب تک یہ کہنا غلط ہے کہ دنیا ایک بڑے امن کے دور میں داخل ہو رہی ہے امین ۶۸۵ جتنا امانت میں خیات کرے گا اتنا ہی محنت کے پھل میں کمی آتی جائے گی جتنا کوئی امین ہوگا اتنا ہی اس کی محنتوں کو بہتر پھل لگے گا ۲۴۶ امین اور غیر امین میں فرق اگر امین نہیں تو اس کی محنت ضائع چلی جائے گی اگر آپ امین ہیں تو خدا سب سے بڑھ کر امین ہے انتقام ۲۴۶ ولایت نصیب نہ ہو انسانی اعمال خود بتاتے ہیں کہ وہ اپنے دعوی میں بچے ہیں یا جھوٹے ہر شخص کو خدا تعالیٰ نے نیکی کا ایک دائرہ بخشا ہے خطروں کے وقت انسان کی سچائی آزمائی جاتی ہے انسان کا اعلیٰ اور لطیف چیزوں کا ادراک ۲۴۷ انسان کی پیدائش یونہی اتفاقا نہیں ہوئی ارب ہا ارب سال کے دور سے گزر کر انسان ۲۵۲ اس مقام تک پہنچا ہے با خدا انسان کی بات میں قوت عطا کی جاتی ہے ۶٩١ جب انسان خدا کو بھلا دیتا ہے تو پھر خدا بھی اس کو بھلا دیتا ہے ۲۴۷ انتظام تو اعتدال کی راہ نہیں دیکھا کرتا انجام انجام بخیر سے مراد اپنی نیکی کا انتہائی عروج حاصل کریں ۴۵۷ ہر انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ کیلئے زندہ رہے انسان جو خدا پر یقین رکھتا ہے اس کے اندھیرے بھی روشن ہو جاتے ہیں انجام بخیر کی دعا کی طرف اولیاء نے بہت توجہ کی ہے ۴۵۷ ۱۴۱ ،۱۳۸ در حقیقت انسان اپنے گناہوں اور کمزوریوں سے واقف نہیں ہونا چاہتا انسان اپنے نفس پر پر بصیرہ “ تو ضرور ہو ۴۴۷ ، ۴۴۵ ، ۴۳۳ ، ۱۳۶ اندلس - سپین انڈونیشیا انسان قرآن کریم میں تین مثالوں میں مختلف انسانی حالتوں کا بیان ۳ جہاں بھی انسان توازن کھو بیٹھے وہاں تقویٰ کی راہ گم ہو جاتی ہے ۲۹۸ انسانوں کیلئے شہد کی مکھی کی مثال میں معرفت کا گہر ا نقطہ ۷ ۱۸۱ ۱۹۱ ۱۹۱ خدا کی نظر میں رہنے والا انسان ہمیشہ معتدل رہتا ہے ٧٠٠ ٧٠٠ ۷۲۳ انسان کا سر عظمت کے لحاظ سے صرف خدا کے آگے جھکنا چاہئے ۱۳ با خدا انسان کا رد عمل کبھی بھی حسد ۔ با عمل سے تجاوز نہیں کرتا انسان خدا تعالیٰ کا نظارہ اپنے وجود میں دیکھ سکتا ہے ہر انسان کا اپنا علم عرفان پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ہر انسان کا آسمان الگ الگ آسمان ہے نفس پر غور کرنے سے انسان کو خدا سے شناسائی ہوتی ہے ۷۲۹ آخری درجہ ساتواں آسمان عام بندوں کا درجہ ہے انسان ہر قسم کی کوشش کرتا ہے کہ وہ زیادہ دیر اس اگر انسان آنکھیں بند نہ کر سکتا تو اس کا نظام عصبی تباہ دنیا میں سانس لے سکے ۲۹۸ اور برباد ہو جاتا کسی انسان کے بس کی بات نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان روزمرہ کی زندگی میں تو رحمان نہیں بنتا ۷۴۱ ۷۵۸