خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 759 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 759

خطبات طاہر جلد ۹ 759 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۹۰ء ہو گئی بس کافی ہے، تم اس میں رہ سکتے ہو۔ سردی سے بچ سکتے ہو، گرمی سے کسی حد تک بیچ سکتے ہو بلکہ واجبی ضرورت بھی پوری نہیں کی جاتی کسی حد تک پوری ہو جائے تو سمجھتے ہیں کہ ذمہ داری ادا ہو گئی۔ وہ تو رحمان نہیں کہلا سکتے ۔ پس تخلیق میں کوئی بھی زندگی کا ایسا ذرہ آپ کو دکھائی نہیں دے گا خواہ وہ زندگی کی کسی نوع سے تعلق رکھنے والا ذرہ ہو جس ذرے کے اندر بھی رحمانیت کا جلوہ دکھائی نہ دیتا ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ بنا سکتا نہیں اِک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نو رحق کا اُس پہ آسان ہے ( در نشین :۴) اب کیڑے کا پاؤں بنانے پر انسان قادر نہیں۔ یہ بات آج کے زمانے میں عجیب لگتی ہے۔ جب آپ دیکھتے ہیں کہ ہوائی جہاز ایجاد ہو گئے ، ٹیلی ویژنز ایجاد ہو گئیں۔ حیرت انگیز بار یک دربار یک صفات کائنات پر غور کرنے کے نتیجے میں انسان بار یک دربار یک چیزیں بنانے پر قادر ہوتا چلا جا رہا ہے تو کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ مصرعہ اب پرانے زمانے کی بات بن گیا کہ بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز لیکن جب آپ گہری نظر سے دیکھتے ہیں تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ بڑی بڑی تخلیق اور عظیم تخلیق اور بار یک دربار یک تخلیق کا دعوی کرنے والا انسان بھی آج تک کیڑے کا ایک پاؤں بنانے سے عاجز ہے کیونکہ کیڑے کے ایک پاؤں میں عجیب در عجیب چیزیں بنی ہوئی ہیں۔ کیڑے کا ایک پاؤں جس مسالے سے بنا ہوا ہے جس طرح اس کے اندر انرجی Energy پہنچانے کا انتظام ہے، جس طرح وہ اپنے ظاہری حجم کے مقابل پر بیسیوں گنا زیادہ وزن اُٹھانے کی طاقت رکھتا ہے۔ جس طرح اس کے اندر بار یک دربار یک اعصاب ہیں۔ جس طرح وہ اس بات کا اہل بنایا گیا ہے کہ سیدھی ، عمودی چیزوں پر بھی وہ چڑھ جائے اور عام سطح پر بھی اسی طرح دوڑ نے لگے جس طرح بعض اُن میں سے پانی کی سطح پر بھی دوڑنے کی استطاعت رکھتے ہیں اس کیڑے کے پاؤں پر آپ غور کریں تو عقل دنگ رہ جائے گی اور بغیر کسی شک کے ایک انسان جو صاحب علم ہو اور صاحب فراست ہو وہ دوبارہ یہ اعلان کرے گا اور ہزار بار یہ اعلان کرے گا: بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز