خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 739
خطبات طاہر جلد ۹ 739 خطبہ جمعہ کے دسمبر ۱۹۹۰ء معلوم ہوتا ہے کہ ہر آواز ایک دوسرے سے مل گئی ہے وہاں ان کی آواز میں اپنی خاص ادا کے ساتھ ، اپنی خاص خصوصیت کے ساتھ ان کے ہم جنسوں کو پہنچ رہی ہوتی ہیں ۔ پس بعض دفعہ وقفہ سے فائدہ اُٹھا کر ، بعض دفعہ آواز کی قسموں کی صلاحیت کی بناء پر یہ بے انتہاء شور میں بھی ایک دوسرے سے گفت و شنید کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اُس کے ساتھ پھر بعض پرندے بعض دوسری آوازوں کو ساتھ شامل بھی کر لیتے ہیں چنانچہ ایک افریقہ نہیں کسی اور ملک غالبا ساؤتھ افریقہ کا ہے ایک خاص قسم کا طوطا ہے وہ جب ایک درخت پر قبضہ جماتا ہے اور یہ اعلان کرنا چاہتا ہے کہ یہ درخت میرا ہو گیا ہے اور کوئی طوطا ادھر اب نہ آئے تو نہ صرف یہ کہ وہ خاص قسم کی آوازیں نکالتا ہے بلکہ ایک لکڑی توڑ کر ڈھول کی طرح درخت کے ساتھ بجاتا بھی ہے اور اُس میں ایک (Rythem) ہے، اُس میں ایک نغمگی پائی جاتی ہے یوں ہی بے ہنگم طریق پر نہیں مارتا بلکہ اپنی آواز کے ساتھ ملا کر گویا ڈھول بھی بج رہا ہے اور اعلان بھی ساتھ ساتھ ہو رہا ہے کہ اس درخت پر میں نے قبضہ کر لیا ہے اب کوئی نہیں آئے گا۔ پھر سمندر کے اندر جو مختلف آوازیں پیدا ہو رہی ہیں وہ اگر باہر اُسی قوت کے ساتھ سنائی دینے لگیں تو انسان کی زندگی حرام ہو جائے ۔ ایک دفعہ سان فرانسسکو میں بعض لوگوں نے جو بہت بڑے بڑے امیر تھے اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم ہاؤس بوٹ (House Boat) میں رہا کریں زیادہ مزہ آئے گا یعنی جس طرح کشمیر میں رواج ہے کہ ڈل جھیل میں کشتیوں کے گھر بنے ہوئے ہوتے ہیں اُس کو ہاؤس بوٹ کہتے ہیں ۔ اُنہوں نے بہت ہی عظیم الشان اور عیاشی کے تمام سامانوں سے مرصع کر کے ایسے کشتیوں کے گھر بنائے اور اُن میں رہنے لگے ۔ اُن کو چین نصیب نہ ہوا کیونکہ ساری رات اتنی خوفناک آوازیں آتی تھیں کہ دل دہل جاتے تھے اور آوازوں کی قسمیں ایسی تھیں جس سے وہ سمجھتے تھے کہ شاید بجلی والوں نے جو کیبلز بچھائی ہیں اُن سے متقناطیسی لہریں اُٹھتی ہیں جو بعض دوسروں سے ٹکرا کر یہ آواز پیدا کرتی ہیں ، بعضوں کا خیال تھا کہ سیورج والوں نے اس طریق پر گندا پانی قریب سے گزارا ہے کہ اُس سے یہ گونج پیدا ہورہی ہے چنانچہ مختلف مقدمے بن گئے ۔ کوئی بجلی کی کمپنی پہ بن گیا ، کوئی کمیٹی پہ بن گیا کہ تم نے سیورج غلط طریقے سے گزارا ہے اُس سے ہماری نیند حرام ہو گئی ہے۔ یہ بھی مقدمے چل ہی رہے تھے کہ ایک سائنسدان نے تحقیق کی اور اُس نے اُس کی وجہ معلوم کر لی ۔ اُس علاقے میں ایک خاص قسم کی مچھلی پائی جاتی ہے جو سارا دن خاموش رہتی ہے اور