خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 723 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 723

خطبات طاہر جلد ۹ 723 خطبه جمعه ۳۰ رنومبر ۱۹۹۰ء یوں دکھائی دیتی ہو جیسے خدا کا حسن اور خدا کی خوبیاں ان میں منعکس ہو رہی ہوں تو پھر ان سے مانگنا خدا ہی سے مانگنا بن جائے گا اور غیر اللہ سے مانگنا نہیں رہے گا لیکن اگر ان کے مقام بگڑے ہوئے ہوں اور ان کے مقامات اللہ تعالیٰ کے مقام سے الگ ہوں اور اس راہ پر نہ ہوں تو پھر یہ شرک کے آلات بن جائیں گے۔ پس قبلہ کو قبلہ نما کہنا اس مضمون کی وضاحت کر رہا ہے۔ جب ایک عبادت کرنے والا قبلہ کی طرف منہ کرتا ہے تو اس لئے وہ مشرک نہیں ہے کہ قبلہ جس طرف بنا ہوا ہے وہاں موجود عمارت اس کے تصور میں ہی نہیں آتی ۔ گویا وہ ہے ہی نہیں صرف منہ اس طرف کیا جاتا ہے لیکن نشانہ بالآخر خدا کے قدم ہیں۔ جن کی عبادت کے سامنے انسان اپنا سر جھکاتا ہے۔ پس اس پہلو سے جب انسان حمد کے مضمون پر نگاہ ڈالتا ہے اور گردو پیش سب پیاری چیزوں کے چیزوں کو اس طرح سمجھنے لگتا ہے کہ ان کی اپنی کوئی حقیقت نہیں میرے خدا ہی کا حسن ہے تو اس کے بعد ان سے استعانت کرتا ہے تو اس استعانت سے کوئی بھی خاص توقع نہیں ہوا کرتی نہ بھی ملے تو اس کو کوئی بھی فرق نہیں پڑتا اور اس کے مانگنے میں ایک استغنا پایا جاتا ہے ایک عظمت پائی جاتی ہے اور جھک کر گر کر نہیں مانگتا وہ جانتا ہے کہ خدا نے ہی اس کو دیا ہے اگر یہ نہیں دے گا اور خدا نے مجھے دینا ہو گا تو ہزار رستے اس کے دینے کے ہیں ان گنت راہیں ہیں جن سے وہ مجھے عطا کر سکتا ہے۔ تو عرفان جتنا جتنا بڑھتا چلا جاتا ہے اتنی اتنی ہی نماز میں لذت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے اور عرفان بڑھانے کے لئے بہت غیر معمولی علم کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہر انسان کا اپنا علم عرفان پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب کا ئنات پر غور کرنے کے لئے ایک سائنس دان کا غور بہت وسیع ہو گا اگر اسے خدا تعالیٰ عرفان کی آنکھیں ہی نہ دے تو بڑے سے بڑے علم کے باوجود اس کو حد کا مضمون سمجھ نہیں آئے گا لیکن ایک معمولی ، انسان ایک چرواہا، ایک گڈریا ایک زمیندار کاشت کار یا ایک مزدورا گر بصیرت کی نظر رکھتا ہو تو وہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں بھی خدا کی محمد دیکھ سکتا ہے اور حمد کے ترانے گا سکتا ہے۔ پس علم سے حمد ضرور بڑھتی ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن علم کے بغیر بھی عرفان نصیب ہو سکتا اگر انسان خدا تعالیٰ کی جستجو کرے اور اس کے حسن کی تلاش کرے تو کوئی جگہ، ایک مقام بھی ایسا نہیں جہاں سے جستجو کرنے والا خدا تعالیٰ کا حسن نہ دیکھ سکے اور وہی حسن ہے جو دراصل حمد میں تبدیل