خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 711
خطبات طاہر جلد ۹ 711 خطبه جمعه ۳۰ رنومبر ۱۹۹۰ء سورۃ فاتحہ کا عرفان حاصل کریں ۔ اس میں انسان کی سوچوں کے جتنے پہلو بھی ہیں ان تمام کی سیرابی کی گئی ۔ ( خطبه جمعه فرموده ۱۳۰ نومبر ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: - بہت سے دوست مختلف ممالک سے جو خطوط لکھتے ہیں ان میں بارہا اس سوال کا اعادہ کیا جاتا ہے یعنی تکرار سے تکرار سے بار بار مختلف دوستوں کی طرف سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ عبادت میں مزا پیدا کرنے کی کیا ترکیب ہے؟ بعض لوگ علمی پیاس بجھانے کی خاطر بغیر کسی ہیجان کے لکھتے ہیں اور بعض معلوم ہوتا ہے شدید اعصابی دباؤ کا شکار ہیں۔ بہت کوشش کرتے ہیں، بہت زور مارتے ہیں لیکن عبادت میں مزا نہیں آتا۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو عبادت کے بیرونی دروازے تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور عبادت کو چھوڑ کر جانے کا قصد کر چکے ہوتے ہیں اور وہ گویا مجھے آخری تنبیہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ابھی بھی ہمیں سمجھا لو اور بچالو ورنہ پھر اگر ہم نے عبادت سے منہ موڑ لیا تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ مختلف دوستوں کو میں مختصرا مختلف جواب دیتا ہوں لیکن یہ مضمون اتنا اہم ہے کہ باوجود اس کے کہ اس سے پہلے بھی اس پر روشنی ڈال چکا ہوں مگر میں سمجھتا ہوں کہ مختلف پہلوؤں سے مختلف زاویوں سے بار بار اس مضمون کو جماعت کے سامنے کھولنا جیا۔ امنے کھولنا چاہئے ۔ آج کے خطبے میں میں سورہ فاتحہ کے نقطۂ نگاہ سے اس پر روشنی ڈالوں گا۔