خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 688 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 688

خطبات طاہر جلد ۹ 688 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء جماعت احمد یہ قبضہ کر سکتی ہے۔ مگر ہمیں کسی عددی غلبے کی ضرورت نہیں ۔ ہم ایسے عددی غلبے کے منہ پر تھوکتے بھی نہیں جس کے نتیجے میں قو میں قوموں سے نفرت کرنے لگیں اور امن جو ہے وہ جنگ کی آگ میں تبدل ہو جائے ۔ اس لئے جماعت احمدیہ کا نظریہ بالکل مختلف نظر یہ ہے ہمیں آج اگر غلبہ نصیب نہیں ہو گا تو دوسو سال کے بعد نصیب ہو جائے گا۔ چار سو سال ، ہزار سال کے بعد ہو جائے گا لیکن وہ غلبہ نصیب ہوگا جومحمد رسول ﷺ کا غلبہ ہے۔ آپ کے خلق کا غلبہ ہے۔ آپ کی تعلیم کا غلبہ ہے الله جو قرآن کا غلبہ ہے۔ اسی غلبے کی ہمارے ذہنوں میں اور ہمارے دلوں میں قدرو قیمت ہے۔ باقی غلبے تو ظلم اور سفاکی کے غلبے ہیں شیطانیت کے غلبے ہیں، ہمیں ان میں کوئی دیسی نہیں بلکہ ہم ان کو مٹانے ۔ الجسم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ ان سے ٹکرانے کے لئے ، ان سے تصادم کرنے کے لئے کھڑے کیا گیا ہے۔ پس یہ جو نسلی تفریقیں ہیں یہ امریکہ میں شمال میں بھی ملتی ہیں اور جنوب میں بھی ملتی ہیں۔ وہاں کے، ریڈ انڈینز کا جہاں تک تعلق ۔ اہے وہ تو عملا صفحہ ہستی سے مٹائے جاچکے ہیں لیکن جنوبی امریکہ میں ریڈ انڈینز بڑی بھاری تعداد میں موجود ہیں بلکہ Latin یعنی لاطینی قوموں کے مقابلے پر بہت سے ممالک میں بھاری اکثریت میں موجود ہیں ۔ اس کے باوجود ان کو اس طرح دبایا جا رہا ہے، اس طرح ان کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں کہ اس کے نتیجے میں دن بدن ان کے اندر تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اپنا انتقام لینے کے لئے ان کے اندر ایسی تحریکات چل رہی ہیں جس کے نتیجے میں آج نہیں تو کل وہاں کئی قسم کے دھماکے ہوں گے اور جو دھما کہ خیز رجحانات ہیں جن کے نتیجے میں جگہ جگہ بم چلائے جاتے ہیں معصوم شہریوں کی زندگی لی جاتی ہے۔ امن عامہ کو برباد کیا جاتا ہے۔ اس کو آپ باہر بیٹھے جتنا مرضی Condemn کریں ، نفرت کی نگاہ سے دیکھیں ، اس کے خلاف تقریریں کریں جب تک ان وجوہات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو یہ باتیں پیدا کرتی ہیں اس وقت تک اس قسم کی Large Scale ، وسیع پیمانے پر Condemnation سے اور ان پر تنقید کرنے سے تو یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ پس نسلی تفریقوں کے نتیجے میں جو خطرات ہیں وہ بھی ساری دنیا میں جگہ جگہ پھیلے پڑے ہیں۔ یوگو سلاویہ میں دیکھیں چھ Republics ہیں اور ان چھ ریپبلک میں سے ہر ایک ،ایک دوسرے سے غیر مطمئن اور ایک دوسرے سے دور بھاگنے کے لئے کوشش کر رہی ہیں۔ دو خود مختار Republics ہیں جو