خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 676
خطبات طاہر جلد ۹ 676 خطبه جمعه ۹ رنومبر ۱۹۹۰ء آئے گا۔ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم نے اپنی مثال بھی قیامت کے ساتھ اسی طرح دی اور اپنی اور مسیح کی مثال بھی اسی طرح دی کہ ہم دونوں اس طرح اکٹھے ہیں جس طرح اُنگلیاں جڑی ہوئی ہیں تو یہ مطلب تو نہیں تھا کہ بیچ میں زمانہ کوئی نہیں آتا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ اس وقت تک ممتد ہوگا اور بیچ میں کوئی روک ایسی نہیں جو اس زمانے کو منقطع کر سکے اور پہلے کو دوسرے سے کاٹ سکے تو جس قوم کے اتنے لمبے سفر ہیں وہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تکلیف محسوس کرنے لگے اور دل چھوڑنے لگے یہ بات تو کوئی آپ کو زیب نہیں دیتی۔ بات یہ ہے کہ اس نئی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا اور ان کے ہاتھ میں اقتدار کی تلوار آئی تو کئی طرف سے خوف اور خطرہ کا اظہار کیا گیا لیکن اس حکومت کے سربراہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہم شریف نواز لوگ ہیں، ہم شرافت کو نوازنے والے ہیں اور شرفاء کو ہم سے ہرگز کوئی خطرہ لاحق نہیں ۔ غالبا ان ہی اعلانات کے اثر میں ایک شریف النفس ڈپٹی کمشنر نے وہ قدم اٹھایا جو اس نے اٹھایا لیکن دوسری طرف احمدیوں کے کانوں میں ایک اور آواز آ رہی ہے اور وہ ملانوں کی آواز ہے۔ وہ کہتے ہیں تم اس آواز سے دھو کہ نہ کھانا، اقتدار کسی کے قبضے میں ہو، ظلم اور تعدی کی تلوار ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ہم جب چاہیں جس گردن پر چاہیں یہ تلوار اس پر گرا کر اس کو تن سے جدا کر سکتی ہے تو تم دیکھو کہ یہ تلوار ہمارے ہاتھوں میں آگئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں نے اس آواز کو سنا اور اس کی وجہ سے ان کے دلوں پر کئی قسم کے اندیشے قبضہ کر گئے ، کئی قسم کے تو ہمات میں وہ مبتلا ہو گئے اور اس وقت ایسی ہی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔ میں ان کو اسی مضمون کی ایک اور بات یاد کرانا چاہتا ہوں جس میں جو کچھ بھی میں نصیحت کر سکتا تھا اس کا بہترین خلاصہ بیان ہو گیا ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ایک غزوہ کے موقع پر اپنے غلاموں سے بچھڑ کر ا کیلئے ایک درخت کے سائے میں آرام فرما رہے تھے کہ آپ کی آنکھ ایک للکار کی آواز سے کھلی ۔ ایک دشمن مسلمانوں سے نظر بچا کر آپ تک پہنچا اور آپ ہی کی تلوار اٹھا کر اس نے آپ کے سر پر سونتی اور کہا کہ اے محمد ! بتا اب تجھے میرے ہاتھوں سے اور میری اس تلوار سے کون بچا سکتا ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اسی طرح اطمینان سے لیٹے رہے اور فرمایا: میرا خدا۔ (ترمذی کتاب صفۃ القیامه حدیث نمبر:۲۴۴۱)