خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 638
خطبات طاہر جلد ۹ 638 خطبه جمعه ۲۶ را کتوبر ۱۹۹۰ء چنانچہ ابھی کچھ عرصہ پہلے جو کیبنٹ میں ایک نائب وزیر نے استعفیٰ دیا تھا وہ اسی موضوع پر دیا تھا، اسی مسئلے پر دیا تھا۔ جرمنی جا کر ا نہوں نے ایسے خیالات کا اظہار کر دیا جو پہلے جرمنی کے نزدیک در حقیقت انگلستان کی کیبنٹ کی باتیں تھیں لیکن اُس نے اپنی طرف سے ان کو ظاہر کیا اور جہاں تک کیبنٹ کا تعلق ہے اُنہوں نے اُس سے نہ صرف قطع تعلقی کا اظہار کیا بلکہ اگر وہ کہتا ہے میں حق پرست تھا اُس حق پرست کو استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کیا گیا لیکن یہ بات یہاں ختم نہیں ہوئی بار بار اس قسم کی آوازیں اُٹھائی جارہی ہیں ۔ ابھی حال ہی میں سویڈن میں ایک انگریز دانشور مسٹر ایتھنی برگس (Mr۔Anthony Burgiss) کا ٹیلی ویژن پر انٹرویو ہوا اور غالبا اخباروں میں بھی اُن کا کوریج ہوا وہ ایک انگریز دانشور کے طور پر وہاں متعارف کروائے گئے اور تعارف یہ کروایا گیا کہ ان کو اسلام کا بہت گہرا علم ہے اور بڑے وسیع اور دیرینہ تعلقات ان کے مسلمان ممالک سے رہے ہیں اور اور بلکہ یہ وہاں لمبا عرصہ ٹھہر کر بھی آئے ہیں۔ یہاں تک ان کو اسلام ئے ہیں۔ یہاں تک ان کو اسلام کا علم سیکھنے کا شوق تھا کہ شدید خطرہ تھا کہ یہ مسلمان ہی نہ ہو جائیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس جہالت سے بچالیا وہ گویا اس رنگ میں ان کو پیش کیا جارہا تھا کہ وہ آخری مقام پر پہنچ کر پھر ان پر وہ باتیں کھل گئیں کہ یہ واپس آگئے اور اب ہم آپ کے سامنے ایک ایسے دانشور کے طور پر پیش کرتے ہیں جو مسلمانوں کی سیاست سے بھی واقف ہیں اور اسلام کی کنبہ سے بھی واقف ہیں۔ یہ تھا دراصل اُن کے یورپ میں جانے اور مختلف مواقع پر اپنے خیالات کے اظہار کا مقصد چنانچہ اسلام کو اس نے بہت ہی ظالمانہ حملوں کا نشانہ بنایا اور خلاصہ کلام یہ تھا کہ آج کی دنیا میں آزادی انسان اور آزادی ضمیر کا اگر کوئی مذہب دشمن ہے تو اسلام دشمن ہے اور آج آزادی ضمیر کا سب سے بڑا خطرہ دنیا میں اسلام سے وابستہ ہے، لاحق ہے۔ یہ کہنے کے بعد پھر اُنہوں نے آخر وہ بات کہہ دی جو کہا جاتا ہے کہ آج کل لوگوں کے ذہن میں عام طور پر گھومتی ہے کہ جرمنی کس شکل میں یورپ میں اُبھرے گا۔ چنانچہ انہوں نے اُسی تسلسل اور بڑے زور سے یہ بھی کہہ دیا کہ جس طرح جرمنی آجکل یورپ کے امن کے لئے ایک نئے خطرے کے طور پر ابھر رہا ہے اُسی طرح اسلام آزادی ضمیر کے لئے خطرے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس پر اس پینل نے جس میں وہ بات کر رہے تھے ایک مشرقی یورپ کے نمائندہ نے بڑی شدت سے ان کی مخالفت کی صرف اس حد تک کہ مثال تم نے غلط دی ہے جیسے اسلام کے معاملے میں تو ہم مان جائیں گے لیکن جرمنی خطرہ