خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 631
خطبات طاہر جلد ۹ 631 خطبه جمعه ۲۶ را کتوبر ۱۹۹۰ء حفاظت کے لئے قائم کی گئی ہے اور حفاظت کی صلاحیت رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے تائید یافتہ ہے اس لئے جماعت احمد یہ کو اس خطرے کو خوب اچھی طرح سمجھنا چاہئے اور اس کی باریک راہوں سے بھی واقف ہونا چاہئے۔ تا کہ جس راہ سے بھی یہ حملہ کرے اُس راہ سے جماعت بڑی بیدار مغزی کے ساتھ اور مستعدی کے ساتھ اس حملے کو نا مراد اور نا کام کرنے کے لئے تیار ہو۔ یورپ کی تبدیلیاں جن کا میں نے ذکر کیا ہے اُن کے نتیجے میں خود یورپ میں پہلے قوم پرستی اُبھرے گی اور پھر نسل پرستی ۔ قوم پرستی اور نسل پرستی کا آپس میں گہرا تعلق ہے صرف دائروں کا اختلاف ہے۔ ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بات آپ کو پیش نظر رکھنی چاہئے کہ روس کسی ایک قوم کے باشندوں پر مشتمل نہیں ہے۔ دنیا میں مختلف قسم کی ریاستیں پائی جاتی ہیں بعض ریاستیں قوم کے تصور پر ابھرتی ہیں اور اُسی تصور پر قائم ہوتی ہیں بعض نظریات کے نام پر قائم کی جاتی ہیں جیسے کہ اسرائیل ہے یہاں دونوں باتیں اکٹھی ہو گئی ہیں مگر اکثر دنیا کے ممالک ایسے ہیں جن میں قوم کے نام پر ملک کا تصور محض ایک موہوم تصور ہے عملاً ایک سے زیادہ تو میں ان ملکوں میں بستی ہیں اور ان ملکوں کی ہمیشہ جدو جہد یہ رہتی ہے کہ قوم کے تفریق کی طرف سب سے بڑا اہل ملک کا دھیان نہ جائے ورنہ یہ کا نہ جائے ورنہ یہ ملک آپس میں پھٹ جائے جائے گا ۔ یہ مسئلہ انگلستان کا سب ۔ مسئلہ ہے یعنی اندرونی لحاظ سے۔ ایک طرف شمال میں سکاٹ لینڈ ہے پھر مغرب میں Wales ہے پھر مزید مغرب میں آئر لینڈ ہے اور پھر شمال اور جنوب سے اختلافات بھی ایک قسم کے قومی اختلاف کا رنگ اختیار کرتے جاتے ہیں ۔ ان تمام اختلافات میں سے یہ جو بڑے قومی اختلاف ہیں وہ سکائش اور انگلش ، ویلش اور انگلش اور آئرش اور انگلش کے اختلافات ہیں۔ اب آپ دیکھیں کہ Great Britian یا United Kingdom دراصل ایک ملک ہے اور جب وسیع پیمانے پر بیرونی خطرات در پیش ہوں تو وہاں ان سب قوموں کے مفاد ا کٹھے ہو کر اُس ملک کو اندرونی طور پر تقویت دیتے ہیں اور اس وقت برٹش قوم کا وسیع تر تصور ابھرتا ہے۔ جب امن کے حالات ہوں تو قومی رجحانات سراُٹھانے لگتے ہیں اور خطرات کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ ایک دوسرے سے عدم اعتماد، ایک دوسرے سے خود غرضانہ تعلقات یا عدم تعلقات یہ چیزیں قوم کے رنگ میں اپنا اپنا اثر دکھاتی ہیں اور قومیت کے پیمانے پر تعلقات کو جانچا جانے لگتا ہے۔ خود غرضی قومی سطح پر محض اس وجہ سے آپس میں تفریق پیدا کرتی