خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 629
خطبات طاہر جلد ۹ 629 خطبه جمعه ۲۶ را کتوبر ۱۹۹۰ء نسل پرستی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ تقویٰ پر مبنی قوم کا تصور اسلامی تصور ہے۔ عراق کی تباہی کا مکمل منصوبہ بنالیا گیا ہے۔ ( خطبه جمعه فرموده ۲۶ را کتوبر ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی :- يَا يُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْتُكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَّ انْثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقُكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ پھر فرمایا : (الحجرات : ۱۴) گزشتہ خطبے میں میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ بدلتے ہوئے حالات میں جماعت احمد یہ کے سامنے نئے میدان کھل رہے ہیں جن میں اسلام کا غیر اسلامی قدروں سے جہاد ہو گا اور نئے معرکوں کے میدان کھلیں گے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ معر کے اپنی نوعیت کے لحاظ سے نئے نہیں بلکہ تاریخی لحاظ سے ہمیشہ سے ان کا وجود چلا آ رہا ہے لیکن بعض ادوار میں یہ نمایاں طور پر سر اُٹھاتے ہیں اور نسبتی لحاظ سے ایک غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں ۔ پس اس دور میں جس میں سے اب ہم گزر رہے ہیں اس میں اسلام کا بہت بڑا مقابلہ معاشرتی قدروں سے ہوگا اور اہلِ مغرب جو زیادہ تر عیسائیت سے تعلق رکھنے والے ہیں اُنہوں نے نظریاتی جنگ سے بہت زیادہ بڑھ کر عمداً جنگ کا رُخ معاشرے کے اختلاف کی طرف موڑ دینا ہے اور اسی بناء پر وہ مغربی قوموں کی اپنی دانست