خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 57

خطبات طاہر جلد ۹ 57 خطبه جمعه ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء شعور پیدا ہو گیا اور اس کے نتیجے میں پھر وہ بڑی بڑی تنقیحات کرنے لگ جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم فلسفے کے اعلیٰ آسمان پر اڑنے والے لوگ ہیں ۔ پس ایمان حقیقت میں دو ہی ایمان ہیں ایک وہ جو سادگی کا ایمان ہے اور اس کے نتیجے میں سادہ اسلام انسان کو نصیب ہو۔ ایک وہ جو عارف باللہ کا ایمان ہے اور عارف باللہ کے ایمان کے لئے ضروری ہے کہ اس کا خدا سے تعلق ہو یہ فرق یا درکھیں ورنہ فلسفہ بذات خود عارف باللہ کا باللہ کا ایمان پیدا نہیں کر سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جو خشک فلسفیوں کے ایمان سے پناہ مانگی ہے تو یہ مراد ہے کہ ایسا دماغ جو بظاہر روشن ہو چکا ہو لیکن خدا سے اس صاحب دماغ کا قلبی تعلق پیدا نہ ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ کا ایسا عرفان نصیب نہ ہو جیسے ایک دوست کا عرفان ا نا عرفان ایک دوست کو ہوتا ہے وہ شخص ہمیشہ مقام خطر میں رہے گا اور اس کے لئے ٹھو کر کھانے کے امکانات زیادہ ہیں یہ نسبت اس کے کہ وہ مستحکم قدموں سے ایک رستے پر آگے چلے۔ صلى الله پس یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ ایمان نصیب کرے جو یا بوڑھوں اور بچوں کا ایمان ہو جس کے نتیجے میں ایک سادہ اسلام پیدا ہو، وہ اطاعت کرنی جانتا ہو، سوال اٹھانے نہ جانتا ہو یا پھر ایسا دماغ نصیب کرے جو بہت ذہین ہو بہت فطین ہو، بہت باریک بین ہولیکن اس کی جڑیں ایسے دل میں پیوستہ ہوں جو دل خدا کا ہو چکا ہو جس دل کی آنکھ خدا کو دیکھ رہی ہو۔ پس وہ دماغ جو خدا رسیدہ دل سے روشنی پاتا ہے وہی دماغ ہے جو دراصل حقیقت میں ایک روشن دماغ ہے، روشن کہلانے کا مستحق ہے۔ ایسے دماغ کو پھر عرفان نصیب ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کی جو یہ صفت بیان فرمائی: وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ ( الجمعہ (۳) اس میں آپ کے دونوں پہلو روشن فرما دیئے آپ نے ایک ایسی قوم پیدا کی جس کو آپ نے کتاب سکھائی اور اس قوم میں سے پھر وہ بھی پیدا ہوئے جن کو آپ نے حکمت بھی سکھائی ۔ ہر وہ شخص جو آپ پر ایمان لایا تھا وہ صاحب حکمت نہیں بن سکا۔ بہت سے مرد بھی اور عورتیں بھی بوڑھے بھی اور بچے بھی ان میں سے ایسے تھے جو آپ کو پ کو دیکھ آپ کے نور صداقت کو پہچان گئے تھے اور اس کے بعد علمی لحاظ سے انہوں نے زیادہ ترقی نہیں کی کیونکہ وہ علمی صلاحیتیں نہیں رکھتے تھے۔ لیکن بہت عظیم الشان اور چمکتا ہوا درخشندہ ایمان ان کو نصیب