خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 580
خطبات طاہر جلد ۹ 580 خطبه جمعه ۵ را کتوبر ۱۹۹۰ء تھے۔ وَمَأْويكُمُ النَّارُ اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے وَمَا لَكُمْ مِنْ نَصِرِينَ اور تمہارا کوئی مدد گار نہیں ہو گا ذلِكُمْ بِأَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ آيَتِ اللهِ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ الْحَيُوةُ الدُّنْيَاء اس لئے ہے کہ خدا تعالیٰ کی آیات کو تم نے مذاق کا نشانہ بنایا اور ان سے تمسخر کیا۔ وَغَرَّتْكُمُ الْحَيُوةُ الدُّنْيَا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں ان باتوں کو نظر انداز کرنے میں مدد دی۔ غر کا مطلب ہے : دھو کے میں مبتلا کر دیا۔ دنیا کی زندگی نے تمہیں ان باتوں سے غافل کر دیا۔ دھوکے میں مبتلا کر دیا اور تم ان باتوں کی اہمیت کو سمجھ نہیں سکے ۔ فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ پر آج کے دن وہ اس عذاب سے نجات نہیں پائیں گے لا يُخْرَجُونَ کا مطلب ہے نکالے نہیں جائیں گے ۔ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ اور ان کی کسی چوکھٹ تک رسائی نہیں ہوگی ۔ پس یہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں کا بھی رب ہے اور زمین کا بھی رب ہے۔ تمام جہانوں کا رب ہے اور اسی کے لئے الْكِبْرِ یام ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور وہ عزیز اور حکیم ہے۔ ان آیات میں دردناک عذاب کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے اس میں سب سے پہلے تو یہ بات انسان کے ذہن کو متعجب کرتی ہے کہ کیوں بعض لوگوں کو کسی عذاب کی حالت میں چھوڑ کر بھلا دیا جائے گا۔ دنیا کی تاریخ میں تو ہمیں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں بہت سے ایسے قلعوں کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں جن کے نیچے زیر زمین ایسے قید خانے تھے جہاں بادشاہوں کی مخالفت کرنے والوں کو ایک دفعہ داخل کر کے بھلا دیا جاتا تھا اور پھر کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا تھا۔ اس زمانے میں بھی بعض ممالک کے جیل خانوں کے متعلق بعض اطلاعیں دینے والے ایسی ہی اطلاعیں دیتے ہیں کہ وہاں جب ایک دفعہ کسی کو پھینک دیا جائے تو پھر اس کی کوئی رسائی نہیں ہوتی اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے کچھ احمدیوں کو بعض ظالموں نے شکایت کر کے سعودی عرب میں میں جیل میں بھجوا دیا اور تقریباً دو مینے وہ اس حالت میں پڑے رہے ۔ کسی نے ان سے پوچھا نہیں کہ کیا جرم تھا نہ کوئی پیشی ہوئی یہاں تک کہ جماعت کی کوششوں سے پھر بالآخران تک ہماری رسائی ہوئی اور ان کی دادرسی ہوئی تو اس زمانے میں بھی ایسے ظلم دیکھنے میں آتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے جو فرمایا کہ قیامت کے دن بعض مجرموں سے یہی سلوک کیا جائے گا تو یہ معاملہ تو دنیا کے معاملات سے گا تو م و