خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 575
خطبات طاہر جلد ۹ 575 خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۹۰ء نیکوں کے ساتھ دم توڑتے ہیں یعنی نیکی کی حالت میں مرتے ہیں۔ پس مالی قربانی کے بہت سے فوائد ہیں اور ان پر آپ جتنا بھی غور کریں آپ کو اور باریک در باریک پہلوان میں دکھائی دیتے چلے جائیں گے۔ سچی مالی قربانی کرنے والا اپنے پیاروں سے بھی یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ بھی مالی قربانی کریں اور یہ بات اس کے اخلاص کی کسوٹی بن جاتی ہے۔ اگر ایک ماں کو اپنے بچوں سے صحیح پیار ہے تو وہ اس بات میں خوشی محسوس نہیں کرے گی کہ بچے اپنا پیسہ اپنے پاس ہی رکھیں اور دین میں خرچ نہ کریں اور وہ یہ نہیں سمجھتی کہ میں جو خرچ کر رہی ہوں بس یہی کافی ہے بچوں پر کیا بوجھ ڈالنا ہے۔ بالکل اس کے برعکس وہ بچوں سے بھی چاہتی ہے کہ وہ بھی مالی قربانی کریں۔ جس سے اس کے اپنے اخلاص کا ثبوت ملتا ہے اور یقین کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس دل میں خدا کی سچی محبت اور قربانی کی سچی روح ہے یہ اس لئے قربانی نہیں کر رہی کہ اس کو اطاعت کی ایک رسماً عادت پڑی ہوئی ہے بلکہ اس کی اہمیت کو جانتی ہے اور اس حد تک جانتی ہے کہ اپنے سب پیاروں کواس سعادت میں شریک کرنا چاہتی ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کو کوئی نعمت مل جائے اور اپنے پیاروں کو کہیں کہ تم ذرا دور بیٹھے رہو۔ اس مصیبت میں مجھے ہی اکیلے کو رہنے دو، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کو وؤں کو بھی خدا نے یہ فطری سخاوت بخشی ہے کہ روٹی کا ایک ٹکڑا ملے تو کائیں کائیں کر کے وہ دور دور سے اپنے بھائی بندوں کو بلا لیتے ہیں۔ انسان کو بھی ان باتوں سے سبق سیکھنا چاہئے اور سبق کے علاوہ اپنے آپ کو پہچاننے کے لئے ان باتوں کو بطور کسوٹی استعمال کرنا چاہئے۔ پس میں نے دیکھا ہے بعض ایسے ماں باپ ہیں جن کے بچے جب عملی زندگی میں حصہ لیتے ہیں کچھ کمانے لگتے ہیں تاجر ہوتے ہیں، نو کر بنتے ہیں تو وہ ان سے اس رنگ میں صرف نظر کرتے ہیں کہ چندہ نہیں دیتا تو کوئی بات نہیں ۔ تازہ تازہ کمائی کرنے لگا ہے اور ابھی اس کے دن ہی کیا ہیں؟ ہم نے کافی قربانیاں کی ہیں ۔ اس کو کچھ دیر اسی حالت میں رہنے دیں اور بعض ماں باپ اس طرح ان پر رحم کرتے ہیں کہ ہم نے جو ساری عمر نعمتیں حاصل کیں، خدا کا پیار پایا، خدا تعالیٰ سے غیر معمولی برکتیں حاصل کیں تو اس سے اولاد بیچاری کو کیوں محروم کریں۔ چنانچہ وہ تاکید کرتے ہیں کہ دیکھو خدا تمہیں اب نوکر بنا رہا ہے ، تجارت کے مواقع عطا فرما رہا ہے۔ جو کچھ بھی تمہیں ملتا ہے سب سے پہلے خدا کے حضور پیش کرو۔ اور ان دونوں قسم کے تجربے مجھے ہوتے رہتے ہیں بعض دفعہ بڑے دلچسپ ہوتے ہیں بعض