خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 495
خطبات طاہر جلد ۹ 495 خطبه جمعه ۲۴ اگست ۱۹۹۰ء قرآن کریم نے جہاں فرمایا ہے کہ غیروں کو دوست نہ بناؤ اس سے بھی غلط فہمیاں پیدا کی گئیں اور اس کے نتیجے میں بعض وسطی زمانوں کے مسلمان علماء نے اسلام کو مزید بد نام کروایا۔ یہ وہ مواقع ہیں جن میں اسلام فرماتا ہے کہ غیروں سے دوستی نہ کرو۔ اسلام اور انصاف کے تقاضوں کو بیچتے ہوئے دوستیاں نہ کرو۔ یہ وہ پس منظر ہے جس میں تعلیم ہے اور ساتھ ساتھ ذکر فر ما دیا گیا کہ وہ لوگ جو تم سے دشمنی نہیں کرتے جو تم سے نا انصافی کا سلوک نہیں کرتے۔ ان سے دوستی سے خدا تمہیں منع نہیں کرتا بلکہ ان سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ اسلام ہے لیکن اسلام کی وہ تعلیم جو عقل کی تعلیم ہے اسے انہوں نے ہمیشہ نظر انداز کیا اور اس تعلیم پر عمل کیا جس کو خود بے عقلی کے معنے پہنائے پس جہاں دوستی سے منع کیا گیا وہاں دوستیاں کیں ۔ جہاں دوستیاں کرنے کی تلقین کی گئی اور طریقہ سکھایا گیا کہ کسی قسم کی قوم سے دوستیاں کرنی ہیں وہاں دوستیوں سے باز رہے۔ الله پس ان کی بیماری کی آخری شکل یہی بنتی ہے کہ تقویٰ سے دور جا چکے ہیں ، قرآن کریم کی تعلیم سے دور جا چکے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مومن ایک بل سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا ۔ ( بخاری کتاب الادب حدیث نمبر: ۵۶۶۸) لیکن کتنی بارڈ سے جاچکے ہیں۔ اسی سوراخ میں دوبارہ انگلیاں ڈالتے ہیں اور اسی سوراخ سے بار بارڈ سے جاتے ہیں اور آج تک انہوں نے ہوش نہیں پکڑی۔ پس صاحب ہوش مغرب کے حالات کا تجزیہ کریں تو وہ بھی جاہل ہے اور بے وقوف ہے اور بار بار کے نقصانات کے باوجود آج تک نصیحت نہیں پکڑ سکا کہ اصل بیماری کیا ہے اور جب تک یہ بیماری رہے گی دنیا کے لئے خطرات ہمیشہ اسی طرح ان کے سر پر منڈلاتے رہیں گے اور مقابل پر جو مسلمان ممالک نے بھی بار بار کی تکلیفیں اٹھانے کے باوجود نصیحت نہیں پکڑی اور بار بارا نہی غلطیوں میں مبتلا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کا کیا علاج ہے اس کا صرف ایک علاج ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ نے ہمیں سکھلایا اور جس کی طرف میں نے آپ کو پہلے بھی توجہ دلائی تھی اور اب پھر دوبارہ توجہ دلاتا ہوں ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : مختلف بڑی لمبی پیشگوئیاں ہیں ان میں سے ایک ٹکڑا آپ کو بتاتا ہوں ۔ آخری زمانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یا جوج ماجوج دنیا پر قابض ہو جائیں گے اور موج در موج اٹھیں گے اور تمام دنیا کو ان کی طاقت کی لہریں مغلوب کر لیں گی ۔ اس وقت دنیا میں مسیح