خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 45
خطبات طاہر جلد ۹ 45 خطبه جمعه ۱۹ جنوری ۱۹۹۰ء یہ وہ دعائیں ہیں جو راکھ پر نظر کر کے دل میں پیدا ہوتی ہیں اور نیکی کے نور کو دیکھ کر اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کا تصور باندھ کر اس سے تعلق پیدا کرنا ایک اور مضمون ہے ۔ ہر انسان میں خدا تعالیٰ نے نیکی مختلف رنگ میں رکھی ہوئی ہے۔ نیکی کے اس حصے پر خدا کی طرف نگاہ کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا یہ دراصل صفات الہی کا پر تو ہے جو میرے دل میں مختلف شکلوں میں نیکیوں کی صورت میں موجود ہے اور اس پر خدا کا احسان کرتے ہوئے ان نیکیوں کو زندہ کرنا ، ان میں پھونکیں مارنا ، ان کو بھڑ کا نا ، ان کو اونچا لے کے جانا ، یہ وہ کوشش ہے جو عبادت کے ذریعے کی جاتی ہے اور عبادت میں کی جاتی ہے۔ غور اور فکر کے ساتھ عبادت کے وقت اپنے نفس کا جائزہ لیتے رہنا اور بعد میں بھی ذکر الہی کی صورت میں اپنے نفس کا جائزہ لیتے رہنا ان معنوں میں جماعت کو چاہئے کہ اپنے نفوس کے نور کو بھڑکائے اور روشن کرے کیونکہ ہم میں سے ہر ایک شخص نور کا محتاج ہے۔ پہلا ایمان ایمان کافی نہیں ایک د ایک دوسرا ایمان لانا ہوگا اور وہ آنحضرت ﷺ کی حقیقت پر ایمان لانا ہوگا ۔ حقیقت محمدیہ کے مضمون کو سمجھنا ہوگا ۔ اس دوسرے ایمان کے نتیجے میں خدا تعالی دوہری رحمتیں لے کر آپ پ پر نازل ہوگا اور آپ کے اندر اور باہر کو ایک نور میں تبدیل فرمادے گا ۔ اور ایسا نور ہوگا جس سے دوسرے دیکھنے لگیں گے اور اس کی روشنی میں نہ صرف آپ آگے بڑھیں گے بلکہ لوگوں کو بھی وہ روشنی فائدہ پہنچائے گی اور لوگوں کے لئے بھی وہ رستہ دکھانے کا موجب بنے گی۔ صلى الله قرآن کریم فرماتا ہے کہ مومن کو ہم نے یہ ذاتی نور صرف اس لئے عطا نہیں کیا کہ وہ خود اپنے لئے استعمال کرے بلکہ لوگوں کو وہ نور دکھانے کے لئے استعمال کرنے لگ جائے اور وہ ایسا شمع بردار ہو جو قافلوں کو اپنے پیچھے لے کر چلنے والا ہو ۔ رستہ دکھانے والا ہو اور اس مقصد کو پورا کرتے ہوئے جب وہ بالآخر خدا کی طرف واپس چلا جاتا ہے تو وہ لوگ جنہوں نے اس کو دیکھا تھا وہ اس کے نور سے محروم رہے تھے ۔ قیامت کے دن اس سے مطالبہ کریں گے اب اس نور سے ہمیں کچھ حصہ دے دو ۔ ہم بڑے بد نصیب تھے کہ تمہارے نور سے فائدہ نہیں اٹھا سکے ۔ اس مضمون کو قرآن کریم سوره حدید آیات ۱۴ تا ۱۶ میں بیان فرماتا ہے۔ فرمایا: