خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 478 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 478

خطبات طاہر جلد ۹ 478 خطبہ جمعہ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء دعوت دے کر بلوایا گیا اور وہ جو بے انتہاء خوفناک بر بادی بغداد کی اور اس اسلامی حکومت کی ہوئی ہے اس کی تفاصیل میں جانے کا موقع نہیں ۔ اکثر لوگوں نے یہ واقعات سنے ہوں گے اور اس پر بعض درد ناک ناول بھی لکھے گئے ۔ بہر حال یہ دنیا کا ایک معروف ترین تاریخی واقعہ ہے یہ واقعہ ۶۳۷ ھ میں گزرا م را ہے اندر سے ہی بعض مسلمانوں نے غیر قوموں سے سازش کر کے بغداد پر حملہ کروایا۔ اس کے بعد تیمور لنگ کے ہاتھوں ۱۳۸۶ھ میں بڑی بھاری تباہی مچائی گئی اور اس وقت بھی مسلمانوں کے نفاق اور افتراق کا نتیجہ تھا کہ تیمور لنگ کو یہ موقعہ میسر آیا کہ وہ ایک دفعہ پھر بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دے اور اس مملکت کو تباہ و برباد کر دے۔ تیسری دفعہ ترکوں کے ہاتھوں ۱۶۳۸ھ میں بغداد کی حکومت کو برباد کیا گیا اور یہ بھی ایک مسلمان حکومت تھی جو مسلمان حکومت کے خلاف برسر پیکار تھی ۔ اس کے بعد ترکوں کی حکومت کو بر باد کرنے کے لئے انگریزوں نے سعودی عرب کے اُس خاندان اور سعودی عرب کے اُس فرقے سے مدد حاصل کی جو اس وقت سعودی عرب پر قابض ہے اور اس زمانے میں کو یت جس پر اب عراق نے حملہ کیا ہے ان کا نمایاں طور پر مد و مددگار تھا۔ چنانچہ ان کی کوششوں سے یعنی اگر سعودی عرب کے موجودہ خاندان کو جو ایک سیاسی خاندان تھا اور ان کا قبیلہ اور فرقہ وہابیہ ا کٹھے ہو کر انگریز کی تائید نہ کرتے اور اگر کویت میں بسنے والے قبائل ان کی مدد نہ کرتے تو تر کی حکومت کو عالم اسلام سے ختم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ عرب ازم کے تصور کو اٹھایا گیا اور بھی بہت سی کا رروائیاں ہیں۔ یہ لمبی کہانی ہے مگر اس وقت بھی ایک غیر طاقت نے بعض مسلمانوں کو استعمال کر کے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی حکومت کو برباد کیا یعنی پہلے ترکی نے بغداد کی حکومت کو تباہ کیا پھر کویت اور سعودی عرب کے علاقے میں بسنے والے مسلمانوں کی مدد سے ترکی کی حکومت کو تباہ و برباد کروایا گیا۔ کے اب پھر ویسے ہی حالات در پیش ہیں۔ اب پھر سعودی عرب کی مدد سے اور تائید سے اور اردگرد کی ریاستوں کی تائید اور مدد کے ساتھ ایک بڑی اسلامی مملکت کو بہت ہی سخت خطرہ درپیش ہے اور جہاں تک میں نے اندازہ لگایا ہے ان قوموں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اس دفعہ عراق کو ایسی خوفناک سزادی جائے اور ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ پھر بیسیوں سال تک کوئی مسلمان ملک ان قوموں خلاف سر اُٹھانے کا یا ان سے آزادی کا تصور بھی نہ کر سکے اور اس میں سب سے بڑا محرک اسرائیل