خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 468
خطبات طاہر جلد ۹ 468 خطبہ جمعہ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء میں ظاہر ہوا ہے اس کے نتیجے میں عراق کے صدر صدام حسین صاحب نے امریکہ کو یہ کہلا کے بھیجوایا کہ اگر تم واقعہ انصاف چاہتے ہو تو پھر اس سارے علاقے میں انصاف برتا جائے اور ہم تیار ہیں کہ ہم اپنی چھوٹی برادر ریاست کی حکومت کو پہلے کی طرح بحال کرتے ہیں جو خاندان اس ریاست پر فائز تھا اُس کے سپر د دوبارہ اس ملک کی باگ ڈور کر دیتے ہیں اور پہلے کی طرح تمام حالات بحال کر دیئے جائیں گے۔ اس علاقے میں اور بھی اس قسم کی باتیں ہیں اور بھی اسی قسم کے ناجائز قبضے ہیں جو تمہارے اتفاق کے ساتھ یا تمہارے اتحاد اور تمہاری سر پرستی کے ساتھ ہوئے ہیں تم اُن کو بھی اس ناجائز تسلط سے آزاد کراؤ۔ مثلاً اُردن کے مغربی ساحل پر یہود کا جو قبضہ ہے جسے دن بدن وہ زیادہ مستحکم کرتے چلے جارہے ہیں اور اب روسی مہاجرین کو وہاں آباد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے پر بھی غیروں کا قبضہ ہے بلکہ ایسے غیروں کا قبضہ ہے جو ہم مذہب بھی نہیں ۔ ایسے غیروں کا قبضہ ہے جن سے عرب کو شدید دشمنی ہے اور اس قبضے کو وہ مستقل صورت دیتے چلے جارہے ہیں اور تمہارے مغرب کے اخلاق نے اس ضمن میں کوئی رد عمل نہیں دکھایا۔ مغرب کے انصاف کے تصور کے سر پر جوں تک نہیں رینگی اس لئے اُس کو بھی شامل کرو اور پھر شام (Syria) ایک اسلامی ملک ہے اُس نے لبنان میں اپنی فوجیں بھیجیں ، وہاں تسلط کیا۔ بار بار جب چاہے وہاں فوجیں بھیجواتا ہے اور جو چاہے وہاں کرتا ہے اُس کو بھی باز رکھا جائے اور اس کی فوجوں کو واپسی کے لئے مجبور کیا جائے ۔ اس قسم کے یہ واقعات جو اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ہیں اُن کو ساتھ ملا کر غور ہونا چاہئے ۔ جہاں تک صدام حسین صاحب کی اس بات کا تعلق ہے، نہایت معقول ہے اور اگر انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر بات کرنی ہے تو پھر خصوصیت کے ساتھ اس علاقے میں رونما ہونے والے سارے واقعات کو یکجائی صورت میں دیکھنا ہوگا۔ اسی تعلق میں کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ صدام حسین صاحب نے اگر انصاف اور تقویٰ کی نظر سے دیکھا جائے تو کویت پر جو حملہ کیا ہے اس کی کوئی جائز وجہ نہیں ہے لیکن جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اُس سے کم جائز وجہ یہودیوں کے پاس ہے کہ وہ اُردن کے مغربی ساحل پر قبضہ مستقل بنالیں اور اس علاقے کو ہمیشہ کے لئے ہتھیا لیں لیکن اس کے علاوہ بھی بعض مظالم اُن کی طرف منسوب ہوئے ۔ مثلاً مغربی پریس نے یہ بات بہت ہی بڑھا چڑھا کر پیش کی کہ ایک انگریز کو نکلنے کی کوشش میں سرحد پار