خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 433 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 433

خطبات طاہر جلد ۹ 433 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۹۰ء ہیں اور مومنوں کی جماعت میں وہ لوگ جن کے اعمال کمزور ہیں لیکن ولایت نصیب نہیں ۔ ہے وہ دن بدن پہلے سے زیادہ گندی اور ابتر حالت کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اس نکتہ کا عرفان حاصل کر کے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کے صحابہ نے اپنی گہری چھان بین کی اور ہر ایک ان میں سے خوفزدہ رہنے لگا کہ ہمارے نفاق کی کیا حالت ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت حنظلہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں تو منافق ہو گیا ہوں اور اپنے متعلق سخت خوف کا اظہار کیا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیوں تمہیں خوف ہے کہ تم منافق ہو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں جب حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کے پاس ہوتا ہوں تو میرے دل کی اور کیفیت ہوتی ہے اور جب میں ان سے الگ ہوتا ہوں تو میرے دل کی کیفیت اور ہو جاتی ہے اور میں کمزوریوں میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ میرا بھی یہی حال ہے (مسلم کتاب التو به حدیث نمبر : ۴۹۳۷) ۔ اب دیکھیں کہ صدیقیت سے بالا مقام نبوت سے نیچے اور کوئی نہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ جواب دینا دراصل نفاق نہیں بلکہ صدیقیت کی نشانی ہے۔ آپ اس مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ہر مؤمن میں دوقسم کی حالتیں جاری وساری رہتی ہیں اور دونوں کے درمیان ایک مستقل جدو جہد اور لڑائی رہتی ہے۔ کبھی روشنی نمایاں ہو جاتی ہے کبھی اس روشنی پر سائے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ شخص منافق ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مدد اور خدا تعالیٰ کی ولایت کے ساتھ ایسا شخص جب ان باتوں کا عرفان پالیتا ہے تو مسلسل اس کی حرکت اندھیروں سے روشنی کی طرف ہوتی چلی جاتی ہے اور یہاں اندھیروں سے مراد کفر نہیں ہے بلکہ ایمان لانے والوں پر کفر کے معنی میں اندھیرے کا اطلاق ہو ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ پس مؤمن تو کفر کے اندھیروں میں نہیں ہوتے۔ مراد یہ ہے کہ خدا کا نور چونکہ لا متناہی ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف حرکت در اصل اندھیروں سے نور کی طرف حرکت کا نام ہے اور ہر اگلے قدم پر نور، نور کو ایک نئی جلا نصیب ہوتی ہے اور اس کے مقابل پر پچھلی حالت اندھیرے دکھائی دینے لگتی ہے اور وہ لوگ جو خدا کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ہزار ہا بلکہ لاکھوں خدا کرے کہ احمدیوں میں ایسے ہوں وہ جانتے ہیں کہ