خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 394 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 394

خطبات طاہر جلد ۹ 394 خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۹۰ء رہتیں یا خاوند مراد نہیں رہتے بلکہ زندگی کے کام کرنے والے ساتھی۔ اس پہلو سے میں اس آیت کے ایک حصے پر آج کچھ مزید روشنی ڈالوں گا۔ جہاں تک نظام جماعت کا تعلق ہے میں نے بڑے غور سے ایسی جماعتوں کے حالات کا تجزیہ کیا ہے جن میں افتراق پایا جاتا ہے۔ افتراق کی جو وجوہات ہیں اُن میں سے بہت سی وجوہات کا تعلق آیت کریمہ کے اس حصے سے ہے وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا - بالعموم قیادت کی خواہش کے نتیجے میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور اس کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک تو نظام جماعت کا انتخاب کا طریق ہے۔ اس طریق میں خالصہ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ محض تقویٰ کی بنا پر اپنے سرداروں کا انتخاب کرو یا جماعت کے عہدیداران کا انتخاب کرو۔ جہاں بعض جگہوں میں تقوی کی کمی ہو وہاں وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں اور جتھوں کے نتیجے میں انتخاب شروع کر دیتے ہیں۔ پس چونکہ منتخب کرنے والے غیر متقی ہوتے ہیں اس لئے ایسے غیر متقیوں کا امام بھی غیر متقی بن جاتا ہے اور وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کی دُعا کا اطلاق باوجود اس کے کہ یہ مذہبی لوگ ہیں اور بظاہر مذہبی اور نیک اقدار کی خاطر عہد یدار چنے جا رہے ہیں اُن پر نہیں ہوتا۔ ایسی قیادت جب بھی اُبھرتی ہے جو جتھے بندی کے نتیجے میں اُبھرتی ہے اُس قیادت کے لازمی نتائج یہ نکلتے ہیں کہ وہ دوسرے مخلصین جوایسی جماعتوں میں اقلیت میں پائے جاتے ہیں وہ یا تو رفتہ رفتہ تقویٰ کے دائرے سے خود باہر نکلنا شروع ہو جاتے ہیں اور جتھے کے مقابل پر جتھا بناتے ہیں یا پھر وہ بالکل جماعت میں بے اثر اور بے حقیقت ہو کے رہ جاتے ہیں اور جماعت کا رُخ ترقی کی بجائے تنزل کی جانب مڑ جاتا ہے لیکن یہ جو آخری صورت ہے ایسی نسبتاً کم دیکھنے میں آتی ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ جو جماعت کی اکثریت کے نزدیک تقویٰ کے اس مقام پر نہیں ہوتے کہ انہیں کوئی عہدہ دیا جائے وہ اقلیت میں پائے جاتے ہیں اور جہاں تک میں نے تفصیل سے جائزہ لیا ہے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ پہلی صورت بہت کم واقعہ ہوتی ہے اور بسا اوقات جماعت کی اکثریت تقومی کے ساتھ ووٹ دیتی ہے اور اُس کے نتیجے میں متقی ہی اُن کے سردار بنائے جاتے ہیں لیکن وہ حصہ جن کو رڈ کر دیا جاتا ہے اُن میں ایک مقابل کی لیڈرشپ اُبھرتی ہے اور اُس لیڈر شپ کا تعلق اُس پہلی لیڈرشپ سے ہوتا ہے جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے۔ جب خدا تعالیٰ نے آدم کو خلیفہ بنانے کا فیصلہ کیا اور فرشتوں کو حکم دیا