خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 321
خطبات طاہر جلد ۹ 321 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۹۰ء رحمت نہیں تھے بلکہ جانوروں کے لئے بھی رحمت تھے اور بے جان چیزوں کے لئے بھی رحمت تھے۔ اس اس مضمون پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کا یہاں موقعہ نہیں لیکن میں آپ کو متوجہ کرتا ہوں کہ پہلو سے آپ آنحضرت ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کر کے دیکھیں تو صحیح معنوں میں آپ کو اسلام بمعنی امن کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ کوئی دنیا میں ایسا وجود نہیں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو مسلمان سے کسی درجے کا خوف رکھتی ہو۔ آپ نے رستوں کو بھی امن عطا کیا یعنی اسلام کی ایسی تشریحات کیں اور اپنی زندگی میں اسلام کو ایسے حسین اسوہ میں ڈھال کر دکھایا کہ بے جان چیز ہو یا جاندار ہو، ہر چیز کو جو خدا نے پیدا کی ہے مسلمان سے امن نصیب ہو سکتا ہے اور ہوتا۔ ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے۔ یہ تشریح آر یہ تشریح آپ نے اپنی عملی زندگی میں ہمیں کر کے دکھائی۔ یہاں تک بتایا کہ پانی کے بھی حقوق ہیں رزق کے بھی حقوق ہیں جانوروں کے بھی حقوق ہیں ، رستوں کے بھی حقوق ہیں اور کوئی باریک سے باریک ایسی چیز بیان سے باہر نہیں رکھی جس میں خدا کی کسی تخلیق کے حقوق ہوں اور آپ نے ہمیں اس سے متعلق متوجہ نہ فرمایا ہو، پس ہر چیز جس وجود سے امن میں آجائے وہی وہ وجود ہے جو یہ کہہ سکتا ہے ۔ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ میں کامل طور پر خدا کا ہو گیا۔ گویا جو سب کچھ خدا کا ہے میں کامل طور پر اس کا پیام امن بن گیا اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اَسْلَمْتُ الله نہیں کہا بلکہ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ فرمایا۔ مطلب یہ تھا کہ میں اسلام کے باریک ترین تقاضوں کا عرفان رکھتے ہوئے تیرا ہو رہا ہوں ۔ جن کا تو رب ہے۔ مجھے بھی اسلام کے بعد ان کی ربوبیت میں حصہ لینا ہوگا اور ان کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔ اسلئے جب میں کہتا ہوں کہ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلمِین تو پوری ذمہ داری کے ساتھ اس کے باریک تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہہ رہا ہوں ۔ یہ مضمون ہے جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جواب میں ملتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی ساری زندگی اس مضمون پر شاہد ناطق تھی ۔ صلى الله پس اسلام کی طرف منسوب ہونیوالا اگر Terrorist کہلانے لگے اور دنیا کی حکومتوں کے وزراءان کے متعلق یہ بیان دیں، جیسا کہ مسز تھیچر کے بیان کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے کہ عالم اسلام سے ہمیں سخت خطرات درپیش ہیں اور دنیا کے امن کو تباہ کرنے کے احتمالات پیدا ہورہے ہیں تو کتنی ظلم کی بات ہے میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ظلم مسر تھیچر نے کیا ، ہو سکتا ہے کہ انہوں نے بھی از راہ ظلم یہ بات کی ہو لیکن ان لوگوں نے ضرور یہ ظلم کیا ہے جنہوں نے مسلمان کہلاتے ہوئے ایسے نمونے پیش کئے اور ایسی