خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 295
خطبات طاہر جلد ۹ 295 خطبه جمعه ارجون ۱۹۹۰ء وَجْهُ رَبِّكَ کو بقاء ہے اور اسے کوئی زوال نہیں اس سے مراد خدا کی رضا بھی ہے۔ ( خطبه جمعه فرموده یکم جون ۱۹۹۰ء بمقام ناصر باغ جرمنی ) ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن : ۲۷، ۲۸) پھر فرمایا: فنا کی حقیقت ایک ایسی ظاہر و باہر حقیقت ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی اور چیز یقینی اور واضح اور ظاہر نہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب بھی زندگی پیدا ہوتی ہے تو بلا شبہ موت پیدا ہوتی ہے کیونکہ کوئی زندگی ایسی نہیں جسے بقا ہو اور جس کا انجام موت تک نہ پہنچے۔ جو چیز پیدا ہوتی ہے اسے بھی فنا ہے، خواہ وہ زندہ ہو یا زندہ نہ ہو۔ چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو اس آیت میں بیان فرمایا جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے کہ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ کہ ہر چیز جو بھی کائنات میں تمہیں دکھائی دیتی ہے یا زمین پر تم دیکھتے ہو، وہ فانی ہے۔ اس کی حقیقت کوئی نہیں وہ بالآخر فنا ہو جائے گی۔ سائنسدانوں نے اس مسئلے پر بہت غور کئے ۔ ایک زمانے میں وہ سمجھتے تھے کہ ایٹم Indestructible ہے۔ یعنی ایک ایسی چیز ہے جو کبھی فنا نہیں ہو سکتی ۔ پھر ایک دور اور ایسا آیا