خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 275
خطبات طاہر جلد ۹ 275 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۹۰ء زندگی گزاری اور اسی حالت میں خدا کے حضور اپنی جانیں پیش کرنے کے لئے میدان بدر میں حاضر ہوئے۔ وہ فتح ان دعاؤں کی فتح تھی جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اس میدان کے ایک طرف اپنے علی خیمہ میں کر رہے تھے اور اس قدر آپ پر گریہ و زاری کی حالت طاری تھی کہ بار بار جوش گریہ سے بدن کانپتا تھا تو آپ کے کندھے سے چادر گرتی جاتی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق جو آپ کی ذاتی حفاظت کے لئے وہاں اس موقعہ پر کھڑے تھے بار بار وہ چادر اوڑھاتے تھے اور ان کی بھی حالت غیر ہوتی چلی جاتی تھی ۔ اس خیمے میں جو دعائیں کی گئی تھیں یوم بدر کی یہ فتح ان دعاؤں کی فتح تھی ورنہ میدان جنگ میں جو واقعات ہورہے تھے ان کی رو سے ممکن نہیں ہے کسی صورت ممکن نہیں ہے کہ اتنے بڑے اور قوی دشمن پر اتنی کمزور اور بے ساز و سامان فوج کو ایسی عظیم الشان فتح نصیب ہوئی ہو۔ صلى الله چک سکندر میں سفا کی اور ظلم کی جونئی تاریخ لکھی گئی ہے اس کو یہ بد بخت علماء یوم بدر سے مشابہ رار دے رہے ہیں۔ جو قانون پاکستان میں بنایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی گستاخی کرنے والے کو موت کی سزاملنی چاہئے ۔ قطع نظر اس کے کہ یہ شریعت کے مطابق درست قانون ہے یا نہیں لیکن اس ملک میں یہ قانون نافذ ہے اگر کبھی کوئی موقعہ اس قانون کے نفاذ کا تھا تو آج ہے۔ ان ظالموں اور بے حیاؤں پر یہ قانون چلنا چاہئے ۔ جنہوں نے اس سفا کی اور ظلم کے دن کی مشابہت اصلى الله علی حضرت اقدس محمد مصطفی کی اس عظیم فتح کے ساتھ دی ہے جسے یوم بدر کی فتح قرار دیا جاتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بے حیائی ایسی عام ہو چکی ہے ، جس اس طرح مٹ چکی ہے کہ کچھ بھی احساس نہیں رہا۔ بس بجلی سے چلنے والے آروں سے اپنے بھائیوں کی اور معصوم بچوں کی انگلیاں کاٹنے کا مزہ اس قوم کے حصے میں رہ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ جیسے کہ ایک عام معروف تصور ہے کہ بعض دوائیں ایسی ہیں یا ایک دوا ایسی ہے جو ہر بیماری کی دوا بن جاتی ہے اور اسے ہماری تصوراتی دنیا میں اکسیر کہا جاتا ہے۔ ویسے تو ہر بیماری کی خاص دوا کو بھی اکسیر کہہ دیتے ہیں لیکن اکسیر کا جو روایتی تصور ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسی دوا جو ہر بیماری میں کام آجائے ، ہر بیماری کا نسخہ ہو اس کو انگریزی میں Panacea کہتے ہیں۔ اسی طرح بیماریوں میں سے ایک ایسی بیماری ہوتی ہے جو ہر مرض کو پیدا کرنے والی اور ہر مرض کی جڑ ہوتی ہے اور وہ تقویٰ کی کمی ہے جب دل سے تقویٰ اٹھ جائے تو ہر قسم کی روحانی بیماری پیدا