خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 272
خطبات طاہر جلد ۹ 272 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۹۰ء اگر انسان توجہ اور غور سے ان بدلتے ہوئے حالات پر غور کرے تو ان میں سے ہر حالت میں اس کے کچھ سبق پوشیدہ ہوتے ہیں ایک زمانہ تھا جبکہ پاکستان کو خطرات کا سامنا در پیش ہوا کرتا تھا جب اس قوم کی چھپی ہوئی خوبیاں ابھر کر باہر آجایا کرتی تھیں اور اس وقت دل میں ایک یقین پیدا ہو جاتا تھا کہ یہ قوم زندہ رہنے والی قوم ہے۔ باوجود اس کے کہ اس زمانے میں بھی کچھ بدیاں قوم میں راہ پا جاتی تھیں اور وقتاً فوقتاً سر اٹھاتی رہتی تھیں لیکن مجھے یاد ہے کہ جب پہلی بار ہندوستان سے لڑائی کا خطرہ در پیش ہوا تو اچانک سارے پاکستان میں یوں معلوم ہوتا تھا جیسے نیکیوں کی ایک ہوا چل پڑی ہے، ایک لہر دوڑ رہی تھی جس کی آواز فضا میں سنائی دیتی تھی اور کسی انسان کے لئے شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی کہ یہ قوم خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سی خوبیوں کی مالک ہے جو وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق ابھرتی ہیں اور ان خوبیوں کی بناء پر ایک انسان یہ فتوی دے سکتا تھا کہ یہ قوم زندہ رہنے کے لائق ہے اور اس میں زندگی کی ساری علامتیں پائی جاتی ہیں۔ پھر ایک دوسری جنگ آئی پھر بھی ہم نے یہی کچھ دیکھا مگر نسبتا کم ، پھر ایک تیسری جنگ آئی اور اس میں بھی ہم نے یہی کچھ دیکھا مگر ان خوبیوں کے اظہار میں کچھ اور کمی آگئی ۔ اس کے بعد ایک لمبا عرصہ ایسے ابتلاء کا گزرا ہے جس کے نتیجے میں معلوم یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے باشندوں کی نیکیاں سوکھنی شروع ہوئیں اور اس کی پہچان کا آج وقت ہے یہ وقت کسی تبصرے کا محتاج نہیں بلکہ خود بول رہا ہے اور اب پھر پاکستان کی چاروں طرف سے سرحدوں کو شدید خطرہ لاحق ہے اور اتنا بڑا خطرہ ہے کہ دنیا کے مبصرین سمجھتے ہیں کہ پہلے کسی جنگ سے پاکستان کو ایسا خطرہ در پیش نہیں ہوا تھا جیسا اس جنگ سے ہوگا اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے مقابل پر ہندوستان کو بھی شدید نقصانات پہنچیں گے اور مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جنگ اگر چھڑی تو چند دنوں کی جنگ نہیں ہوگی بلکہ لمبے عرصے تک دونوں ملکوں کی اقتصادی حالت کو کلیہ تباہ کر کے ختم ہو گی ۔ اس شدید خطرے کے باوجود، جیسا خطرہ آج تک اس ملک کو کبھی پیش نہیں آیا تھا وہ ابھرتی ہوئی خوبیاں دکھائی نہیں دے رہیں بلکہ ساری قوم خود اپنے ہی گناہوں کی طغیانی میں ڈوبی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ وہ ظلم اور وہ سفا کی جو مسلمانوں کے ہاتھ سے دوسرے مسلمانوں پر روار کھے جارہے ہیں ان میں نہ صرف یہ کہ کوئی کمی نہیں آئی بلکہ پہلے سے بڑھتے