خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 21

خطبات طاہر جلد ۹ 21 خطبه جمعه ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء اپنی آئندہ نسلوں کو دعا گو نسلیں بنادیں حضور کی تین با برکت رویا صالحہ کا ذکر ( خطبه جمعه فرموده ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: مومن کا اپنی انفرادی زندگی میں بھی اور اپنی اجتماعی زندگی میں بھی دعا کے ساتھ ایک ایسا ہی رشتہ ہے جیسا زندگی کا سانسوں کے ساتھ ہوتا ہے یا خون کی گردش کا دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو طبعاً خود بخود جاری و ساری رہتا ہے اور مومن کو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں پڑا کرتی کہ تم اپنے ہر کام میں، ہر مشکل میں، ہر ضرورت میں دعا کا سہارالو۔ طبعی طور پر سب سے پہلے خیال دعا ہی کی طرف جاتا ہے خواہ کوئی خوف پیدا ہو یا کوئی امید ہو۔ کسی چیز کی ضرورت پیش آئے یا کسی خطرے سے بچنے کا خیال ہو، ہرصورت میں ،امید ہو یا بیم ، ہو یا خوف ہو یا رجاء، دعا ہی ہے جو سب سے پہلے مومن کے ذہن میں اولین سہارے کے طور پر ابھرتی ہے ۔ اس سلسلے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ملفوظات میں اور تحریروں میں جو روشنی ڈالی ہے ایک بہت ہی ضخیم مضمون ہے اور جماعت کو چاہئے کہ خصوصیت کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی دعا سے تعلق میں تعلیمات کا مطالعہ کیا کریں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ دعا کے مضمون پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات میں سے الگ منتخبہ حصے دعا کے عنوان کے تابع شائع ہو جانے چاہئیں تا کہ بکثرت احباب جماعت بھی اور دوسرے لوگ