خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 249
خطبات طاہر جلد ۹ 249 خطبه جمعه ۴ امتی ۱۹۹۰ء سے محروم رہتا ہے تو پھر سختیاں ہی حصے میں آئیں گے اور لذت سے محرومی بتاتی ہے کہ ٹیسر کی کوئی منزل اس کو نصیب نہیں ہوئی۔ پس شروع میں جب آپ اس مضمون کو پڑھتے ہیں فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا تو عبادت کا مضمون بھی خوب واضح ہو جاتا ہے اور ہر انسان کو اللہ تعالیٰ اپنی عبادت کی پہچان کا ایک ذریعہ عطا فرما دیتا ہے۔ اپنے مقام اور مرتبے کی پہچان کا اور یہ وہ ایسا راز ہے جو خدا اور بندے کے درمیان رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کی عبادت کس حد تک مقبول ہے۔ کسی حد تک کسی بندے کو رغبت نصیب ہوئی یا وہ بندہ جانتا ہے اگر وہ جاننا چاہے۔ لیکن بدنصیبی یہ ہے کہ اکثر انسان ایک غفلت کی حالت میں زندگی گزار دیتے ہیں اور اگر وہ جاننا چاہیں بھی تو اس لئے جاننا نصیب نہیں ہوتا کہ ان کی آنکھوں پر غفلت کے پردے ہوتے ہیں اور نہیں پتہ کہ کیسے جانا جا سکتا ہے۔ اس لئے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس عبادت میں سے گزر کر جب ہم واپس آتے ہیں تو ہم پہلے سے بہتر بن چکے ہوتے ہیں۔ لیکن اس بات کی پہچان کے اور بھی پہلو ہیں کہ عبادت نے ان میں کوئی فرق ڈالا یا نہیں ڈالا ۔ جب میں یوگنڈا سفر پر تھا وہاں میں نے عیسائیوں اور مسلمانوں کے ایک مشترکہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کے سامنے اس بات کو کھولا تو بہت سے وہاں کے جو معززین تھے انہوں نے بعد میں اس بات میں بہت ہی گہری دلچسپی لی۔ موقعہ یہ تھا کہ ہم وہاں ایک مسجد کے افتتاح کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ جب بھی کوئی عبادت کرنے والا مسجد جاتا ہے یا گر جے جاتا ہے یا جو بھی اس کے عبادت گھر کا نام ہے وہاں جاتا ہے تو جس حالت میں جاتا ہے اگر ویسا ہی واپس آجاتا ہے تو پھر اس کا آنا جانا محض ایک وقت کا ضیاع ہے۔ ایک حرکت ہے جس کا نتیجہ کوئی نہیں۔ اگر آپ کسی کپڑے کو کسی رنگ میں بھگوئیں اور باہر نکالیں تو وہ سارا رنگ پیچھے چھوڑ آئے تو ایسے کپڑے کو رنگ دینا بالکل ایک مسخرانہ بات ہوگی ۔ جو کپڑا رنگ قبول ہی نہیں کرتا اس غریب کو بار بارغو طے دینے کا فائدہ کیا ؟ اس لئے رنگ کے فن کے جو بھی واقف ہوتے ہیں وہ کپڑے کو پہلے تھوڑا سا بھگو کے دیکھتے ہیں اگر وہ رنگ کو قبول نہ کرے تو پھر یہ توجہ کرتے ہیں کہ کیوں رنگ کو قبول نہیں کر رہا۔ پھر ان داغوں کو دور کرتے ہیں ان کو بعض ایسے تیزابوں سے گزارتے ہیں جن کے نتیجے میں وہ رنگ کو قبول نہ کرنے والی جو بعض بدیاں یا بعض دھبے ان پر پیدا ہو چکے ہوتے ہیں ان کو وہ کاٹتے