خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 238
خطبات طاہر جلد ۹ 238 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء جاتی ہے یہ بھی سمجھنا ضروری ہے۔ پس پہلے نمازوں کے لئے وہ ہنڈیا تو بنا ئیں جس ہنڈیا سے ابلنے کی آواز آئے گی اگر نماز کا بدن ہی قائم نہ ہوا گر پنچ وقتہ نمازوں کی حفاظت نہ ہو تو وہ کون سی ہنڈیا ہے جس سے ابلنے کی آواز آئے گی ۔ پس آپ کا سینہ تب اس ہنڈیا کی طرح بنے گا جب ہنڈیا موجود ہو گی اور وہ نمازوں کی ہنڈیا ہے اگر نہیں ہے تو اس کو حاصل کریں اس کے بغیر تو روحانیت کے جوش مارنے کا سوال نہیں پیدا ہوتا ۔ روحانیت کہاں بٹھا ئیں گے آپ ؟ آنحضرت ﷺ نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ آپ نمازوں کے برتن میں اپنی محبت کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتے تھے اور نمازوں میں لپٹی ہوئی آپ کی روح خدا کے حضور جوش مارتی تھی اور واقعتہ دیکھنے والوں کو یوں آواز آتی تھی جیسے واقعی کوئی ہنڈیا ابل رہی ہے۔ پھر آپ کے متعلق بیان کیا جاتا ہے۔ صلى الله حضرت مغیرہ سے روایت ہے کہ آنحضور بعض اوقات نمازوں میں رات کو اتنی دیر تک کھڑے رہا کرتے تھے کہ آپ کے دونوں پاؤں اور پنڈلیاں تک متورم ہو جایا کرتے تھے۔ یعنی کھڑے کھڑے سوج جاتے تھے اس بارے میں آپ سے عرض کیا گیا تو آپ نے فرمایا افلا اکون عبدا شكورا۔ (بخاری کتاب التفسیر حدیث نمبر : ۴۴۵۹) کہ کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنو۔ مطلب یہ ہے کہ کسی نے تعجب سے کہا ہوگا کہ یا رسول اکرم ﷺ آپ کو کیا ضرورت ہے اتنی لمبی چوڑی عبادتوں کی آپ گو تو خدامل چکا ہے، آپ تو خدا کے ساتھ رہتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ تبھی تو مجھ پر دہرا فرض ہے کہ اس پاک ذات کا شکریہ ادا کروں۔ پس ایک عبادت ہوتی ہے حصول کے لئے ، ایک ہے لقاء کے بعد اپنے محبوب کو راضی رکھنے کے لئے ، ایک گریہ وزاری ہوا کرتی ہے ہجر کی گریہ وزاری ، اکثر کو تو وہ بھی نصیب نہیں ہے لیکن ہجر کے بعد جب محبوب مل جاتا ہے تو اس کے مل ا حضور جو انسان بیٹھ کر روتا ہے اور اس سے پیار کی باتیں کرتا ہے، اسے اپنا رکھنے کیلئے اس کی منتیں کرتا ہے یہ وہ گریہ وزاری تھی جو آنحضرت ﷺ کو نصیب ہوئی تھی ۔ پس عبد شکور بنے کا یہ مطلب ہے کہ تم ہجر کے واقف لوگ ہو تمہیں کیا پتا کہ لقاء کے رونے کیا ہوا کرتے ہیں۔ جب خدا نصیب ہو جائے تو کتنے پیار کے ساتھ اس کو اپنا بنائے رکھنا پڑتا ہے اور بار بار عرض کرنی پڑتی ہے کہ تیرا احسان ہے کہ تو مجھے نصیب ہو گیا ہے ورنہ میں کہاں اس لائق تھا۔ صلى پھر صاحب لقاء کو ایک مرتبہ اور ایک مقام عطا کیا جاتا ہے جو اسے باقی بندوں سے ممتاز