خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 223 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 223

خطبات طاہر جلد ۹ 223 خطبه جمعه ۲۰ اپریل ۱۹۹۰ء خطبوں کے آغاز میں ذکر کیا تھا کہ : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَتِ لأولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ( آل عمران: ۱۹۱ تا ۱۹۲) اس آیت کا عام مفہوم اور درست مفہوم جو تمام امت میں اسی طرح رائج ہے وہ یہ ہے کہ الَّذِینَ سے جو مضمون شروع ہوتا ہے وہ لِأُولِي الْأَلْبَابِ کی تفسیر ہے یعنی صاحب عقل لوگ جن کا ذکر لِأُولِي الْأَلْبَابِ کے الفاظ میں کیا گیا ہے، وہ ہیں الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيماً جو خدا تعالیٰ کو کھڑے ہو کر بھی یاد کرتے ہیں ، بیٹھے ہوئے بھی یاد کرتے ہیں ، کروٹ کے بل بھی یاد کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن جو مجھے مضمون دکھایا گیا وہ یہ تھا کہ الَّذِینَ میں آیات اللہ دکھائی جا رہی ہیں ۔ اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ وہ آیات کیا ہیں ۔ ایک پہلو ان آیات کا یہ ہے کہ الَّذِینَ وہ لوگ ہیں وہ آیات جو دن رات خدا کو یاد کرتے ہیں اور ہر کروٹ پر خدا کو یاد کرتے ہیں اور دن کو بھی یاد کرتے ہیں اور رات کو بھی یاد کرتے ہیں ۔ پس اس پہلو سے اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ جو يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَ قُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کو ہمیشہ یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی ، اور بیٹھے ہوئے بھی اور لیٹے ہوئے بھی اور زمین و آسمان اور کائنات پر غور کرتے رہتے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی تخلیق میں آیات ہیں یعنی یہ لوگ مجسم آیتیں ہیں اور یہ لوگ دن اور رات بدلنے کی کیفیات میں بھی آیات کا مقام رکھتے ہیں ۔ قرآن کریم سے آیات کی اصطلاح کا انسانوں پر چسپاں ہونا اور پھر تزکیہ کے صیغہ میں ضمیر کا اس طرف پھیرا جانا سورۃ الکہف کی اس آیت سے ثابت ہے جہاں فرمایا: أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ ايْتِنَا عَجَبًا ( الكهف : ۱۰) اسی طرح آیات کے جمع کے صیغہ کا بدل واحد کی صورت میں بیان کرنے کی مثال اس آیت کریمہ میں ہے فرمایا: فِيهِ آیت بَيِّنَتُ مَقَامُ ابْرَاهِيمَ ( آل عمران : ۹۸) ۔