خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 198

خطبات طاہر جلد ۹ 198 خطبہ جمعہ ۱۳ را پریل ۱۹۹۰ء ہے عجز کے ذکر میں میں نے یہ بتایا تھا کہ اس کا برعکس یعنی تکبر بھی غور کے لائق کیونکہ بسا اوقات انسان اپنے آپ کو عاجز سمجھ رہا ہوتا ہے لیکن اس میں تکبر کا ایک پہاڑ چھپا ہوا ہوتا ہے ۔ لوگ اس محاورے سے تو واقف ہیں کہ اپنی آنکھ کا شہتیر تو دکھائی نہیں دیتا دوسرے کی آنکھ کا تنکا دکھائی دے دیتا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تکبر پر اس سے بہت بڑھ کر مثال صادق آتی ہے۔ تکبر اگر پہاڑ کی شکل میں بھی انسان میں موجود ہو تو بسا اوقات اس سے مخفی رہ جاتا ہے ۔ اس ضمن میں ہمارے ایک احمدی شاعر مکرم چوہدری محمد علی صاحب جو سائیکالوجی کے پروفیسر تھے، ان کی ایک نظم کا ایک مصرعہ خصوصیت سے مجھے بہت ہی پسند آیا تھا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ آنکھوں میں ہیں انا کے ہمالے پڑے ہوئے۔ یعنی اپنی آنکھوں میں انا کے ہمالے پڑے ہوئے ہیں اور اس کو نظر نہیں آ رہے۔ پس متکبر کو ہر دوسری چیز دکھائی دے رہی ہوتی ہے اپنا تکبر دکھائی نہیں دیتا اس لئے ایسے مریضوں سے جب مجھے واسطہ پڑتا ہے جن کو یہ سمجھانا ہو کہ آپ متکبر ہو رہے ہیں اپنی فکر کریں ورنہ یہ ہلاکت کی راہ ہے تو سب سے زیادہ مشکل ان کو یہ سمجھانے میں پڑتی ہے کہ آپ کے اندر تکبر کا مادہ پایا جاتا ہے کیونکہ وہ شخص اپنے آپ کو عام طور پر عاجز سمجھ رہا ہوتا ہے۔ بہر حال یہ مضمون ایسا ہے جس پر مزید وضاحت سے روشنی کی ضرورت ہے ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک صاحب تجربہ عارف باللہ کے طور پر جو تکبر کا ذکر فرمایا ہے اس میں سے چندا اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ منظوم کلام میں بہت سی جگہ آپ نے اس مضمون کو چھیڑا ہے ۔ چند شعر یہ ہیں جو میں آپ کے سامنے آج پڑھ کے سناتا ہوں ۔ ه جو خاک میں ملے اسے ملتا ہے آشنا اے آزمانے والے ! یہ نسخہ بھی آزما شوخی و کبر دیو لعیں کا شعار ہے آدم کی نسل وہ ہے جو وہ خاکسار ہے