خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 156
خطبات طاہر جلد ۹ 156 خطبه جمعه ۲۳ مارچ ۱۹۹۰ء معمولی طور پر متاثر ہوئی اور ساتھ ہی مجلسوں میں بیٹھی پورا وقت بعد میں ریسپشن میں بھی آئی تو اُن کے میاں کا چہرہ دیکھ کر ان کی بیوی کے تاثرات معلوم ہو رہے تھے۔ اتنا خوش تھے اُن کی کیفیت دیکھ کے کہ آدمی اُس کو بیان نہیں کر سکتا کس طرح اُن کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھتا تھا جب وہ کسی بات سے متاثر ہوتی تھیں۔ آخر پر پھر ان سے رہا نہیں گیا جب جدائی کے وقت انہوں نے الوداع کرنا چاہا تو الگ کمرے میں ملے مجھے انہوں نے کہا کہ اب میں مزید انتظار نہیں کر سکتا اپنی بیوی کے بدلنے کا اور آج میں یہاں سے بیعت کر کے رخصت ہوتا ہوں ۔ پس خدا نے اُس باپ کی دُعا بھی سن لی اور اُس باپ نے مجھے دُعا کے لئے کہا تھا اللہ تعالیٰ نے میرا بھی حصہ ڈال دیا اور بیٹے کی دعا یوں قبول ہوئی کہ وہی خاتون جو مطلقہ ہیں اُن کی تین بچیاں بھی ہیں جو اتنی قابل ہیں کہ سپین میں شاعری کے مقابلے میں سارے سپین میں اُنہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔ ایسی اچھی ادبیبہ ہیں اُن سے جب مجلس لگی تو اُٹھنے سے پہلے اُنہوں نے کہا کہ میرا تو خیال ہے کہ اب مجھے شامل ہو جانا چاہئے ۔ میں نے اُن سے کہا کہ نہیں ابھی اور غور کر لیں ، دُعا کر لیں تسلی ہو جائے ۔ اُنہوں نے کہا میں نے اُٹھنا نہیں جب تک بیعت نہ کرلوں ۔ اب تو میرے دل کے بس کی بات نہیں رہی اور اُس نے کہا کہ آپ کو اندازہ نہیں کہ میں کتنی دیر سے جماعت احمدیہ کے لٹریچر کا مطالعہ کر رہی ہوں اور مجھے کتنی گہری دلچسپی پیدا ہو چکی ہے، یہ جو آپ کی کتاب ہے Murder in the name of Allah اُس کے دو ابواب کا میں ترجمہ کر کے ڈہرا چکی ہوں اور باقی میں بڑی تیزی سے کر رہی ہوں کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ سپین کو اس کتاب کی بہت ضرورت ہے۔ تو اپنے طور پر وہ اتنا پہلے ہی خدا کے فضل سے آگے بڑھ چکی تھی اور تھوڑا سا درخت کو ہلانا پڑتا ہے پھل گرانے کے لئے اُس ہلانے میں خدا نے میرا ہاتھ بھی لگوا دیا ورنہ وہ پھل تو پہلے سے ہی تیار تھا اور اُس کی بیعت پر خاص طور پر جو احمدی ہیں سپین کے بہت ہی خوش ہوئے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی وجہ سے جماعت کو غیر معمولی تقویت ملے گی پھر اُسی رات ایک پرانے سپین کے مسلمان کا فون آیا کہ میں نے ٹیلی ویژن پر آپ کے امام کا پروگرام دیکھا ہے مجھے خواہش ہے اگر وقت ملے تو میں ابھی آجاؤں اور مجھے گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔ چنانچہ ہم نے وقت دیا اُس کے بعد گیارہ بجے سے بعد کافی دیر تک اُن کے پاس بیٹھے رہے۔ اُنہوں نے بھی آخر پر یہی کہا کہ میں بڑی دیر سے مسلمان ہوں مگر تمام فرقوں کو پرکھنے کے بعد میرا دل اٹکا نہیں اور آپ کے