خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 154
خطبات طاہر جلد ۹ 154 خطبه جمعه ۲۳ مارچ ۱۹۹۰ء رہے اور بہت ہی غور اور توجہ سے باتوں کو سُنا اور Respond کیا حالانکہ جو آئی جی پولیس تھے انہوں نے یہ کہا آخر پر کہ میری تو ابھی پیاس نہیں بھی میں کل دوبارہ آنا چاہتا ہوں ۔ وہی بات جو وہاں ہوئی تھی ایسی بات یہاں دوہرائی گئی ۔ اب یہ کسی انسان کے بس کی بات تو نہیں چنانچہ وہ دوبارہ مشن ہاؤس تشریف لائے اور وہاں آکر بڑی لمبی باتیں ہوئیں اور انہوں نے کہا کہ میں مستقلاً اس جماعت سے تعلق رکھنا چاہتا ہوں اور مجھے آپ اپنا بھائی سمجھیں اور یہیں نہیں بلکہ سارے سپین میں کہیں کوئی کام ہو تو مجھے خدمت کا موقع ضرور دیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ اُس وقت وہاں ہمیں علم نہیں تھا پہلے اور ان کی زبانی علم ہوا کہ ہمارے دو احمدی مستری جو پاکستان سے آئے ہوئے تھے اور وہاں کام کر رہے تھے اُن کو صرف دو مہینے کا ویزا املا تھا وہ بڑھاتے بڑھاتے ایک سال تک پہنچ گیا تھا اور یہی وہ صاحب تھے جنہوں نے آخری فیصلہ کرنا تھا۔ چنانچہ انہوں نے مشنری کو مخاطب ہو کر کہا کہ میں یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ کسی قیمت پر اب ان کو ایک دن بھی اور اجازت نہیں دینی اور اب میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ کو کبھی کسی درخواست کی ضرورت نہیں ۔ میں اب از خود اس کے ویزے کو جب تک آپ کہیں گے بڑھاتا رہوں گا یعنی جب تک آپ کی خواہش ہو گی بڑھاتا رہوں گا لیکن اب آپ کو درخواست نہیں دینی چاہئے۔ اس طرح خدا تعالیٰ اپنے حیرت انگیز طور پر فضل نازل فرماتا رہا اور تعلقات کے راستے بڑھاتا رہا۔ وہیں اُسی ملک کے سفیر نے یعنی جو سپین میں متعین ہیں جن کے متعلق میں نے پہلے بات کی ہے کہ دوبارہ اُنہوں نے خواہش کی تھی اور ملاقات کی مشن میں فون کیا کہ میں تو ان سے ابھی ملنا چاہتا ہوں ۔ اب میرا یہ تاثر ہے کہ انہوں نے فون کیا ہوگا یا پھر کوئی دعوت نامہ گیا تھا اس کی وجہ ہوگی مگر بہر حال اُن کے اصرار کی وجہ سے ہمیں اپنا رستہ بدل کر میڈرڈ سے ہو کر جانا پڑا اور وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن کے ساتھ بھی اسی موضوع پر باتیں ہوئیں اور انہوں نے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا کہ ہمارے ملک کو آپ کی ضرورت ہے۔ میں اپنے طور پر رابطہ کرتا ہوں اور جب کوئی مثبت جواب آئے گا تو میں پھر آپ کو مطلع کر دوں گا۔ جہاں تک سوال وجواب کی مجالس کا تعلق ہے سپین میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی سمجھدار طبقے کے لوگ صرف وہیں کے نہیں بلکہ دوسرے شہروں سے بھی تشریف لائے ہوئے تھے اور