خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 147
خطبات طاہر جلد ۹ 147 خطبه جمعه ۲۳ مارچ ۱۹۹۰ء اتنی محنت کرتا ہے اور ایسی غیر معمولی قربانیاں پیش کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اُس کو لقاء نصیب نہیں ہوا کرتی۔ کیونکہ لقا کے لئے اُس شخص کے اندر بھی ایک اعلیٰ خلق کا ہونا ضروری ہے جس کی خاطر محنت کی جاتی ہے۔ جب تک اُس کی ذات محنت کو قبول کرنے والی نہ ہو اور اپنے اندر غیر معمولی احسان کی شان نہ رکھتی ہو اُس وقت تک ضروری نہیں کہ ہر محنت کرنے والے کو اُس کے محبوب کی لقا مل جائے ۔ خدا تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ ہر محنت والے کو اگر وہ حسب توفیق محنت کرے، لقاء کی دعوت دیتا ہے اور چونکہ خود دیتا ہے اس لئے لازما انسان یقین کے ساتھ محنت کرتا ہے کہ اگر میں حقیقی معنوں میں جیسا کہ فرمایا گیا ہے اُس کی لقاء کی کوشش کروں گا تو لقاء سے محروم نہیں رہوں گا۔ دوسرا گدھا کا معنی ہے اگلے دو دانتوں سے کاٹنا اور اس میں بھی اسی محنت کے مضمون کو مزید واضح فرما دیا گیا۔ خدا کی راہ میں جو محنت کرنی پڑتی ہے اُس میں اپنے نفس کو کاٹنا پڑتا ہے اور اُس کے لئے دُکھ اُٹھانا پڑتا ہے۔ دنیا کے عشق میں جو لوگ محنت کرتے ہیں وہ مسلسل اپنے نفس کو کاٹ رہے ہوتے ہیں اور اپنے دل کو زخم پہنچارہے ہوتے ہیں ، اپنے محبوب کے فراق میں اور اُس کی لقاء کی خواہش میں ۔ پس خدا تعالیٰ نے یہاں وہ لفظ اختیار فرمایا جو عشق کے مضمون کو کامل طور پر کھول کر بیان کرتا ہے۔ فرمایا یہ محنت کوئی بیگار کی محنت نہیں ہو سکتی ۔ ایسے مزدور کی محنت نہیں جس کے لئے کوئی اور اختیار نہ رہا ہو، مجبور کر دیا گیا ہو۔ پس ان کے لفظ میں تاکید ہے اُس سے غلط نہی نہیں پیدا ہونی چاہئے کہ خدا تمہیں مجبور کر رہا ہے۔ فرمایا ایسی محنت جبھی تم کر سکتے ہو جب تم میں عشق کا جذبہ پایا جائے۔ جب تم خاص اپنے نفس کو کاٹ بھی رہے ہو اور یہ جو مضمون ہے دو دانتوں سے کاٹنے والا یہ بسا اوقات عبادت میں واقعہ تجربے میں سے گزرتا ہے۔ بعض دفعہ جیسا کہ سکول کے بچے یا کالج کے لڑکے بھی جانتے ہیں امتحان کے دن قریب آجائیں ، زیادہ محنت کے تقاضے ہوں اور نیند کا غلبہ ہو تو بعض طلباء اپنے آپ کو جگائے رکھنے کے لئے بار بار اپنے ہاتھ کو کاٹتے ہیں یعنی ایسا نہیں کاٹتے کہ زخم لگ جائے لیکن جگانے کے لئے کچھ تکلیف اپنے آپ کو پہنچاتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں بھی صحابہ کا یہ حال تھا کہ عبادت میں کھڑے صلى الله رہنے کی خاطر اپنے آپ کو تکلیف پہنچایا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ حضرت اقدس رسول اکرم ہے عروسه اپنی ایک زوجہ مبارکہ کے گھر گئے تو ایک رسی لٹکی ہوئی دیکھی جو چھت سے کسی جگہ سے لٹکی ہوئی تھی۔ آپ