خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 137

خطبات طاہر جلد ۹ 137 خطبه جمعه ۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء خائب و خاسر رہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے مشرقی یورپ کے ایک سفیر سے میری ملاقات ہوئی اور انہوں نے یہ بات تسلیم کی کہ تمام تر کوششوں کے باوجود اشتراکیت اسلام کا نام مٹانے میں ناکام رہی ہے ۔ پس تلوار کی فتح تو کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتی ۔ دراصل پیغام کی فتح ہی وہ فتح ہے جس کی قدر ہونی چاہئے ۔ اور سپین کی سرزمین کو دوبارہ پیغام کے ذریعے اسلام کے لئے جیتنا ہمارا فرض ہے اور آج یہ پیغام کی فتح ہمارے نام لکھی گئی ہے اگر جماعت احمد یہ نے اس ذمہ داری کو ادا نہ کیا تو کوئی اور اس ذمہ داری کو ادا نہیں کر سکے گا۔ چند دن پہلے Sevilla کی یونیورسٹی میں عربی کے ڈیپارٹمنٹ میں مجھے ایک خطاب کرنے کی توفیق ملی ، اس خطاب سے پہلے عربی ڈیپارٹمنٹ کے جو ہیڈ تھے انہوں نے مجھے کہا کہ آپ ان کو ابتدائی باتوں پر خطاب کریں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں باوجود اس کے کہ ان کا عربی سے تعلق ہے اور پر کچھ اسلامی تعلیم سے تعلق رکھنے والے ڈیپارٹمنٹ کے طلباء بھی شاید آئیں لیکن ان کو اسلام کی حقیقت میں الف، ب کا بھی پتا نہیں اس لئے آپ زیادہ گہری اور فلسفیانہ باتیں کرنے کی بجائے سیدھی سادھی بنیادی تعلیم پر لیکچر دیں۔ ان کو یہ بتائیں کہ اسلام کے پانچ ارکان کیا ہیں اور ان کے کیا معانی ہیں۔ چنانچہ میں نے ان کے مشورے کے مطابق اسی مضمون پر وہاں خطاب کیا لیکن خطاب کے شروع میں میں نے ان سے کہا کہ آج کے خطاب میں مجھے بہت حیرت بھی ہے کہ وہ ملک جہاں آٹھ سو سال تک اسلام نے حکومت کی تھی اور آٹھ صدیوں کی حکومت بہت ہی شاذ کسی قوم کو نصیب ہوا کرتی ہے۔ آپ تاریخ عالم پر نظر ڈال کر دیکھ لیں سو ، دو سو سال ، تین سو سال کی حکومت بھی بہت ہی بڑے اثرات پیچھے چھوڑ جایا کرتی ہے۔ انگلستان نے ہندوستان پر ، سوسال یا ڈیڑھ سو سال اگر پچھلا ان کا تجارتی زمانہ بھی شمار کر لیں اور اس کو بھی ان کے اثر و نفوذ میں شامل کر لیں تو ڈیڑھ سو سال کا عرصہ بنتا ہے جس میں انہوں نے حکومت کی ہے اور اس ڈیڑھ سو سال کے آثار آج تک قائم چلے آرہے ہیں اور عیسائیت کی شکل میں بھی یہ آثار بڑی کثرت سے آپ کو ہر جگہ ملتے ہیں۔ تو کجا ڈیڑھ سو سال اور کجا آٹھ سو سال تاریخ عالم میں بہت کم مثالیں آپ کو دکھائی دیں گی کہ کسی قوم نے کسی اور قوم پر اتنی لمبی حکومت کی ہولیکن