خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 111
خطبات طاہر جلد ۹ 111 خطبه جمعه ۱۶ فروری ۱۹۹۰ء ہمیں تسلی ہو گئی ہے بالکل ٹھیک ہے۔ جرمنی سے ایک خاتون کا خط آیا کہ میری بچی اس عمر میں ہے ،اس نے یہ بات شروع کر دی ہے ۔ میں بڑی پریشان ہوں تو وہ ذہین قو میں جنہوں نے لمبے فاصلے طے کرنے ہیں ۔ جن کا کام ایک نسل سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ نسلاً بعد نسل پھیلا ہوا ہے، انہیں لازماً اسی طرح صاحب بصیرت ہونا ہوگا۔ انہیں لازما اسی طرح حساس بننا ہوگا ۔ جب طغیانیاں زور پکڑ جائیں تو پھر ان کے سامنے کوئی پیش نہیں جاسکتی ۔ بڑی سے بڑی قو میں بھی ان کے سامنے بالکل بے حقیقت ہو کر رہ جایا کرتی ہیں ۔ اب یہ چھوٹے سے طوفان آئے ہیں انگلستان میں آپ نے دیکھ لیا ہے کہ کتنی بڑی عظیم الشان طاقت ہے، انگلستان کی یعنی گئی گزری ہونے کے باوجود ابھی غریب ملکوں کے مقابل پر بہت ہی بڑی ایک طاقت ہے، بہت منظم ہے، ہر قسم کے سامان ان کو مہیا ہیں لیکن ہواؤں کے سامنے اور بارش کے سامنے اس طرح بے بس ہو گئے کہ کوئی بھی پیش نہیں جاتی۔ جس طرح پاکستان کے جھونپڑیوں والے بے بس ہو جایا کرتے ہیں اسی طرح یہ بڑی بڑی مضبوط عمارتوں والے بے بس ہو کر رہ گئے ۔ وہاں یونائیٹڈ سٹیٹس یعنی امریکہ میں بعض اچانک آنے والے خوفناک طوفان ہیں ۔ اچانک ان معنوں میں کہ جب وہ پہنچتے ہیں ساحل تک تو بڑی تیزی کے ساتھ وہ شدت اختیار کرتے ہیں مگر ان معنوں میں نہیں کہ وہ بنتے ہی وہیں ہیں ۔ سینکڑوں میل پہلے ، بعض دفعہ مہینوں پہلے سے وہ پرورش پا رہے ہوتے ہیں۔ وہ آثار بن رہے ہوتے ہیں لیکن جب وہ کنارے ے تک پہنچتے ہیں اور کسی شہر پر کسی ساحلی قصبے پر حملہ کرتے ہیں تو وہ طوفان اس طرح ہیں جیسے بالکل اچانک پیدا ہوئے ہوں ۔ ان کے اندر اتنی طاقت ہوتی ہے کہ بعض دفعہ مضبوط چھتیں اچانک اڑ جاتی ہیں۔ کاریں کئی کئی فٹ بلندی تک اٹھ کے پھر گرتی ہیں اچانک انسان کھڑا ہوا ایک دم بگولے کی طرح ہوا میں اڑ جاتا ہے اور پھر سینکڑوں و کڑوں فٹ کی بلندی سے گرتا ہے۔ بڑے بڑے مضہ دے مضبوط گارڈر، بڑے بڑے بھار بڑے بڑے بھاری کنکریٹ کے تو دے کے تو دے یوں ہوا میں اڑ جاتے ہیں جس طرح چھوٹے سے کنکر کو انسان اچھال دے ۔ اس وقت انسان کی کیا پیش جاسکتی ہے ۔ قرآن کریم نے بہت خوبصورت نقشہ کھینچا ہے۔ لَمَّا طَعَا الْمَاءِ ان کو الطَّاغِيَةِ نے پکڑ لیا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا عذاب جس کے سامنے انسان بالکل بے بس اور بے اختیار ہو کر رہ جائے ۔ تک پس جب یہ الطَّاغِيَةِ بنتی ہے ، اس وقت آپ کچھ نہیں کر سکتے ۔ جب آپ کے کسی بچے