خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 96
خطبات طاہر جلد ۹ 96 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء ہر لمحہ اپنے یتیم ہو جانے کا خوف تھا یہ خوف یہ دکھ اور یہ فکر اس کثرت کے ساتھ کراچی کے گھروں میں محسوس ہوئے ہیں اور حیدر آباد اور سندھ کے لوگوں کے گھروں میں محسوس ہوئے ہیں ۔ کہ ان دکھوں کو ان اعداد و شمار کے مطابق ظاہر کرنا بالکل ایک بے کار، ناکام کوشش ہے ۴۰ قتل ہوئے ہوں یا ۵۰ قتل ہوئے ہوں یا ۔۔ اقتل ہوئے ہوں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ لکھو لکھا دل ہیں جو روزانہ زخمی ہوتے ہیں اور روزانہ خون بہاتے ہیں کوئی امن نہیں رہا ہے کوئی ضمانت نہیں کسی چیز کی۔ علم کا میدان ہو ، تجارت کا میدان ہو، تمدن کے مختلف دائرے ہوں کسی پہلو سے آپ کسی دائرے میں جا کر دیکھیں آپ کو پاکستان میں دکھ ہی دکھ دکھائی دیں گے۔ ایک طرف خطرہ یہ ہے کہ نئے نقشے ابھر نے سے پہلے انہدام کی کارروائی شروع ہو چکی ہے اور بڑی بڑی عظیم طاقتیں ٹوٹ رہی ہیں اور نئے نئے جوڑ توڑ کے ساتھ ایک نئی دنیا ابھرنے کو ہے اور دوسری طرف وہ عالم اسلام جس پر بناء ہے جس نے آئندہ ایک عظیم الشان کردار ادا کرنا ہے جہان نوکو بنانے میں وہ اپنی قیادت سے ہی غافل پڑا ہے ۔ اس کو ابھی تک یہ احساس نہیں کہ خدا کے مقرر کردہ امام کو ٹھکرانے کے نتیجے میں وہ ہر قسم کی قیادت اور ہر قسم کی سیادت سے محروم ہو چکا ہے اور دن بدن ان کے دکھ بڑھتے چلے جارہے ہیں اس لئے اپنی دعاؤں میں اس بات کو بھی شامل رکھیں کہ وہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کو اپنی ذمہ داریاں با حسن رنگ میں نبھانے کی توفیق عطا فرمائے بلکہ یہ دعا کریں کہ وہ مسلمان جن کو ساتھ لے کر ہم نے آگے بڑھنا ہے۔ جو اس تقدید کا حصہ ہیں کہ آئندہ نئے جہاں کی بناء انہوں نے ڈالنی ہے ان کو اللہ تعالی ہلاکت سے محفوظ رکھے ۔ اگر یہ مسلمان نہ رہیں تو پھر ہمارے پاس وہ کون سی قوم ہوگی جس کو لے کر ہم آگے بڑھیں گے۔ نئی قوموں میں سے بھی قو میں آئیں گی لیکن وہ قو میں جو نسلاً بعد نسل مسلمانوں میں پیدا ہوتی چلی آرہی ہیں ان کے رنگ اور ہیں۔ ان کے اندر اسلام بہت گہرے طور پر جذب ہو چکا ہے۔ ان کے ظاہری کردار میں اگر نہ بھی نظر آ رہا ہو تو کوئی اہل دانش اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ معمولی سی کوشش سے ان کی صفائی ہو سکتی ہے۔ ان کے اندر اسلامی اخلاق کو دوبارہ قائم کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایمان کی گہری جڑیں ابھی تک ان میں موجود ہیں۔ اسلامی معاشرہ ان کیلئے اجنبی نہیں ہے۔ کوئی ایسے تمدنی رجحانات ان کے نہیں ہیں جو اسلام کے نافذ ہونے کی راہ میں ایک ٹھوس مدافعت دکھائے لیکن مغربی قوموں میں اگر