خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 844
خطبات طاہر جلد ۸ 844 خطبه جمعه ۲۹ دسمبر ۱۹۸۹ء ہیں، قریبی ہیں۔ ان کا بھی کچھ خیال کرو اور خلیفہ وقت کو یہ بھی نظر رکھنی پڑتی ہے کہ کون توفیق سے آگے بڑھ رہا ہے لیکن یہ ایسا نشہ ہے کہ جن کو پڑ جاتا ہے، واقعی نشہ بن کے چمٹ جاتا ہے۔اس لئے بجائے اس کے کہ ہم اپنی نسلوں کو دنیا کے نشوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ مول لیں ان کو یہ اچھے نشے لگا دیں۔ یہ ایسے نشے ہیں جو پھر ان کو سنبھال لیں گے ۔ آئندہ نسلوں کو سنبھال لیں گے اور اللہ کے فضل کے ساتھ جیسا کہ میں نے کہا ہے، ایک نیکی کا قدم دوسری نیکیوں کے قدم اٹھانے کی توفیق دیتا چلا جائے گا۔ اس وقت جور پورٹ میرے سامنے ہے۔ جو اعداد و شمار میرے سامنے ہے،ان کی رو سے جو اول ، دوئم ، سوئم ممالک کے متعلق میں اعلان کروں گا غالباً یہ ترتیب تو الا ما شاء اللہ قائم رہے گی لیکن ہو سکتا ہے کہ کچھ حصوں میں تبدیلی ہو جائے کیونکہ بہت سے کوائف ابھی تک موصول نہیں ہوئے۔ یہ جو کوائف میں آپ کے سامنے پیش کرنے والا ہوں یہ نامکمل ہیں کیونکہ ابھی تک وقف جدید کے معاملے میں پوری تندہی کے ساتھ ، مستعدی کے ساتھ جماعتیں رپورٹ نہیں بھجواتیں ۔ اس وقت تک جو کوائف ہیں۔ پاکستان کے کوائف کا جہاں تک تعلق ہے حسب سابق کراچی خدا تعالیٰ کے فضل سے سرفہرست ہے۔ پچھلے سال بھی سر فہرست تھا اور پچھلے سال سے خدا کے فضل سے نمایاں طور پر بڑھ کر کراچی نے حصہ لیا اور ربوہ مجھے یاد نہیں کہ پچھلے سال دوئم تھا یا نہیں لیکن اس سال دوسرے نمبر پر ہے اور ربوہ میں چونکہ اکثر آبادی غرباء پر مشتمل ہے اس لئے ربوہ کا سارے پاکستان میں دوسرے نمبر پر آنا خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک خاص اعزاز ہے جو اہل ربوہ کو نصیب ہوا ۔ لاہور خدا کے فضل سے چندوں میں بہت اچھا ہے۔ لیکن وقف جدید میں تیسرے نمبر پر ہے۔ کراچی کا قدم بہت نمایاں طور پر آگے ہے۔ ربوہ اس سے کئی قدم پیچھے ہے لیکن اس کے باوجود دوئم پوزیشن حاصل ہے اور لاہور کراچی سے یوں کہہ لینا کہ اگر کراچی نے تین قدم اٹھائے ہیں تو لاہور نے دو اٹھائے ہیں، یہ نسبت ہے ان کی آپس میں اور فیصل آباد امسال سیالکوٹ کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ سمجھ نہیں آئی کہ سیالکوٹ اپنے گزشتہ سال کے مقابل پر کیوں پیچھے ہٹا ہے اور یہ ایک استثنائی مثال ہے ورنہ بالعموم ہر ضلع آگے بڑھتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہاں سے رپورٹیں آنے میں کچھ کمی رہ گئی ہے ورنہ مجھے سیالکوٹ پر حسن ظن ہے، خدا تعالیٰ نے اس کو جو یہ تقدم عطا فرمایا تھا ، اولیت عطا فرمائی تھی ، اس کو یہ