خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 815
خطبات طاہر جلد ۸ 815 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء دُنیا میں مسلمانوں کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو سب سے زیادہ دُکھ احمدی کو ہوتا ہے ( خطبه جمعه فرموده ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: پاکستان میں ۔ جماعت احمدیہ کے خلاف جو ظلم و تعدی کی تحریک بڑے زورون ڑے زور وشور سے جاری ہے اس سے متعلق مختلف وقتوں میں میں جماعت کے سامنے حالات رکھتا رہتا ہوں ۔ آج کے خطبے میں میں نے یہ موضوع چنا ہے کہ اس تحریک کا وہ پس منظر کیا ہے جو خالصہ دینی حیثیت رکھتا ہے اور جس کا تعلق احمد یوں کو مسلمانوں کے اسلام کے دائرے سے خارج کر کے غیر مسلم بناتا ہے۔ غالباً اس سے پہلے میں نے بعض خطبوں میں ان امور کی طرف اشارہ کیا ہے یا بعض ابتدائی خطبوں میں تفصیلی بحث بھی کی ہو گی لیکن چونکہ ہماری نئی نسلیں اور نئے آنے والے احمدی زیادہ تر اس پس منظر سے بے خبر ہیں اس لئے کبھی کبھی ان باتوں کو ہرانا اور یاد کرانا مفید ہو سکتا ہے۔ جماعت احمدیہ کے خلاف ایک دور تو وہ تھا کہ جب محض فتووں پر بناء کی جاتی تھی اور کثرت کے ساتھ تمام ہندوستان کے علماء ہی نہیں بلکہ ارضِ حجاز کے علماء سے اور دیگر ملکوں کے علماء سے بھی فتوے لئے گئے اور شائع کئے گئے جن کے ذریعے عوام الناس کو یقین دلانے کی کوشش کی گئی کہ احمدی قطعی طور پر دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں بھی زیادہ تر بناء انہیں فتاوی پر تھی لیکن جب ۱۹۵۴ء میں منیر انکوائری کمیشن ۱۹۵۳ء کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے مقرر کیا گیا تو پہلی بار