خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 793
خطبات طاہر جلد ۸ 793 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۸۹ء جماعت احمدیہ کے حق میں تو یہ سال ایسا رحمتوں اور برکتوں کا سال گزرا ہے کہ یوں لگتا تھا کہ ایک لیلۃ القدر ہے جو سارے سال پہ پھیل گئی ہے۔ پہلا سال ہے جس میں کم و بیش ایک لاکھ بیعتوں کا تخمینہ ہے۔ اس میں سے اکثر پوری ہو چکی ہیں اور باقی وقت ابھی باقی ہے۔ میں اُمید رکھتا ہوں کہ یہ سال ختم ہونے سے پہلے ایک لاکھ تک احمدی ہو چکے ہوں گے یعنی اس سال کے اور سینکڑوں علماء ہیں ۔ سینکڑوں جو اپنی مساجد اور اپنی جماعتوں سمیت داخل ہوئے ہیں اور وہ اپنے ہاں ”مَرْجُو “ 66 لوگ تھے ، ان سے اعلیٰ تو قعات تھیں۔ علاقے میں اچھی شہرت رکھنے والے لوگ تھے، ایسے نیک تھے کہ جب انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت سچی ہے تو ساری قوم ان کے ساتھ آئی ہے اور اس کے مقابل پر یہ پہلا نشان ان کے حق میں ظاہر ہوا ہے۔ اور آگے سنئے ! اب میں اسی نشان کو منظور چنیوٹی صاحب کے جھوٹا ہونے کے نشان کے طور پر پیش کرتا ہوں ۔ حضرت مسیح موعود کے سامنے جب عبد اللہ آتھم نے بعض لولے لنگڑے پیش کئے تھے کہ ان کو اچھا کر کے دعوئی مسیحیت کی صداقت کا ثبوت دو تو حضرت مسیح موعود نے ان لولے لنگڑوں کو واپس ان کے سامنے پیش کر دیا تھا کہ میری صداقت کا ثبوت تو بعد میں آئے گا تم پہلے اپنی مسیحیت کی سچائی کا ثبوت دے دو تو میں یہی لولا لنگڑا جو انہوں نے میرے حضور پیش کیا ہے میں واپس مولانا کے پاس بھیجتا ہوں کہ اب اس کو اپنی صداقت کے نشان کے طور پر ظاہر کر کے دکھا دیں۔ دنیا کو بتادیں کہ کس طرح یہ شخص آپ کی صداقت کا نشان ہے۔ منظور چنیوٹی صاحب نے ۲۱ جون ۱۹۸۸ء کو اعلان کیا کہ ( یہ اخبار کی خبر ہے روز نامہ امروز میں ۲۱ جون ۱۹۸۸ ء کو شائع ہوئی۔ میں ان کے الفاظ میں پڑھتا ہوں ): مولانا منظور احمد چنیوٹی نے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کو چیلنج مباہلہ قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مرزا طاہر احمد کے باپ دادا اور بھائی کو دعوت مباہلہ دی تھی ۔“ اب میں پوچھتا ہوں کہ اپنے اس نئے چیلے سے گواہی لیں کہ کیا آپ نے کبھی میرے دادا کو مباہلے کا چینی چیلنج دیا تھا۔ اگر یہ گواہی دے دے تو وہ سارے عرب احمدی، جن کو یہ پھسلانے کی ناکام کوشش کر چکا ہے اس پر لعنت ڈالیں گے اور کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے تم جھوٹ بولتے ہو۔ وہ تو پیدا بھی