خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 790 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 790

خطبات طاہر جلد ۸ 790 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۸۹ء اب آگے سنئے ! عدم تعاون اور افسران سے نافرمانی کے رویے کے متعلق وکیل التبشیر نے پھر ان کو ۲۷ مئی کو سختی سے نوٹس دیا کہ آپ اس سے باز نہیں آ رہے اپنے رویے کو ٹھیک کریں ورنہ ہمیں آپ کو فارغ کرنا پڑے گا ۔ ۱۸ جولائی ۱۹۸۷ء کو پھر مجھے تنبیہ کرنی پڑی۔ پھر ۳۱ رمئی ۱۹۸۸ء کو ان کی بار بار کی کجیوں کی وجہ سے بالآخر جب میں نے سمجھایا اور بہت اچھی طرح قرآن کریم اور حدیث اور سنت کے حوالے دے کر سمجھایا کہ آپ اپنی اصلاح کریں۔ میں بار بار آپ سے عفو کا سلوک محض اس لئے کر رہا ہوں کہ آپ کی اصلاح ہو جائے لیکن آپ باز نہیں آ رہے اس پر بھی ان کا معافی کا خط ملا جو ہمارے ریکارڈ میں موجود ہے۔ رسالہ التقوی کا ان کو مدیر بنایا گیا لیکن رسالہ التقویٰ میں بھی انہوں نے بعض ایسی حرکتیں شروع کیں اور بار بار کی نافرمانیاں شروع کیں کہ جس کے نتیجے میں نے مارچ ۱۹۸۹ء کو ان کو رسالہ کی ادارت سے بھی فارغ کر دیا گیا۔ یہ ہیں معتمد صاحب جن کے سپرد جو کام کئے بالآخر واپس لینے پڑے۔ یہاں تک کہ رسالہ کی ادارت سے بھی یہ فارغ کر دیئے گئے ۔ ایک کام خطبات کے ترجمے کا تھا وہ یہ صرف کرتے تھے لیکن سیریا (Syria) سے خطبات کے ترجموں کے متعلق بھی احتجاج موصول ہوا اور ایک صاحب ہیں جو انگریزی دان بھی ہیں اور بہت اچھے عربی ادیب ہیں ۔ اُنہوں نے مجھے لکھا کہ یہ خطبہ ! یہاں میں نے اس کی اشاعت روک دی ہے کیونکہ بعض دفعہ مجھے انگریزی کا ترجمہ بھی پہنچا ہے، عربی ترجمہ بھی پہنچا ہے اور مجھے یہ احساس ہے کہ انہوں نے اصل مضمون سے واضح طور پر انحراف کیا ہے اور غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ ان کے ترجمے کے اوپر بھی پھر میں نے دوبارہ ہدایت کی کہ اب کڑی نظر رکھی جائے ، جب تک پورا ترجمہ ہمارے بعض احمدی علماء جو خدا کے فضل سے عربی کا بہت ملکہ رکھتے ہیں اور یہاں موجود ہیں وہ نظر نہ ڈال لیں اس وقت تک ان کے ترجمے کو بھی اب استعمال نہ کیا جائے ۔ یہ ۷ / مارچ ۱۹۸۹ء کا واقعہ ہے۔ یہ آخری کام جب ان سے واپس لے لیا گیا تو پھر انہوں نے بعض اور پر پرزے نکالنے شروع کئے جن پر ہم براہ راست اس طرح تو نظر نہیں رکھ سکتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات بھجوانے کا انتظام انتظام فرما دیا کہ اس کے بعد انہوں نے اپنے بغض کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ یہ پروپیگنڈا شروع کیا بعض نو احمد یوں میں کہ جماعت جو جو ہے یہ پاکستانیت کو دوسروں پر مسلط کر رہی ہے۔ اس واسطے