خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 787
خطبات طاہر جلد ۸ 787 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۸۹ء بہت ہی قاب ) قابل اور رسالوں کے مدیر رہے ہیں زبان پر بڑا عبور ہے ، صا۔ بڑا عبور ہے، صاحب علم و فضل انسان ہیں ان کی خواہش ہے کہ یہ اپنی زندگی سلسلے کی خدمت میں پیش کریں اور میں پُر زور سفارش کرتا ہوں کہ ان کو یہاں بلوالیا جائے اور اگر کوئی عربی رسالہ شائع کرنا مقصود ہو تو یہ اس کے لئے بہترین مدیر ثابت ہوں گے۔ چونکہ مجھ پر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ کہا بیر فلسطین سے خبریں منگوا رہے ہیں اور جو بھی باتیں بیان کر رہے ہیں وہ وہاں کی جماعت کے علم میں ہیں، میں نے ان کی بات کو قبول کر لیا کیونکہ اس سے پہلے ان کے جھوٹ کا اور کجی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ جب وہ یہاں تشریف لے آئے ، غزہ کے یہ دوست تو تھوڑی دیر بعد ہی فلسطین کی جماعت کی طرف سے ایک بہت زور کا احتجاج موصول ہوا اور اُنہوں نے کہا کہ آپ نے ایک ایسے شخص کو جماعت احمدیہ کی کچھ خدمت سپرد کی ہے جس کا جماعت احمد یہ سے تعلق ہی کوئی نہیں ۔ یہ وہ صاحب ہیں ، ان کے بیان کے مطابق جنہوں نے حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب کے زمانے میں احمدی ہونے کا فیصلہ کیا اور اس کے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا لیکن احمدی ہوتے ہی انہوں نے جماعت کبابیر سے مالی مطالبات شروع کر دیئے۔ جب وہ مطالبات رد کر دیئے گئے تو انہوں نے با قاعدہ جماعت سے علیحدگی کا اعلان کیا اور عدالت میں حاضر ہو کر یہ بیان دیا کہ میرا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس اعلان کو وہاں ایک اخبار میں شائع کروایا اور ان کے معاملے میں خود حسن عودہ صاحب کے والد بھی وہاں گئے اور تحقیق کے بعد ساری جماعت کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس شخص کا جماعت احمد یہ سے کوئی تعلق نہیں باوجود علم کے عودہ نے یہ ایک جھوٹا تصور پیش کیا کہ ایک نہایت ہی مخلص احمدی جو خدمت کے لئے آمادہ اور تیار اور خواہشمند ہے، اس کو یہاں بلوا لینا چاہئے ۔ بہر حال اسی وقت ان کو فارغ کر کے واپس بھجوا دیا گیا۔ یہ واقعہ جون ۱۹۸۶ء کا ہے یعنی آنے کے چند ماہ بعد ۶ مہینے کے اندر اندر اور جب میں نے عودہ صاحب کو بلا کر یہ سرزنش کی کہ آپ نے اتنا واضح جھوٹ بولا ، ایسا دھوکے سے کام لیا، آپ کیسی سلسلے کی خدمت کریں گے؟ تو اس پر پہلے تو صاف انکار کر دیا کہ میرے تو علم میں ہی نہیں تھا۔ یہ مجھ پر جھوٹا الزام ہے کہ مجھے علم تھا کہ یہ شخص مرتد ہو چکا ہے۔ جب جماعت کبابیر کے پیش کردہ حقائق سامنے پیش کئے تو اار دسمبر ۱۹۸۶ء اور پھر ۱۲ دسمبر ۱۹۸۶ء کو تحریری طور پر اپنی غلطی کا اقرار کیا اور یہ بھی لکھا کہ میرے والد صاحب کو بھی اس کے ارتداد کا علم تھا اس لئے مجھ سے غلطی ہو گئی ہے اور معاف کر دیا جائے۔