خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 750
خطبات طاہر جلد ۸ 750 خطبہ جمعہ ۷ ارنومبر ۱۹۸۹ء طرف سے کیا مطالبے تھے۔ پس جہاں تک جماعت احمدیہ کی صداقت کا تعلق ہے وہ تو روز روشن کی طرح ساری دنیا میں ظاہر ہوئی ہے اور تم خود اپنے ہاتھوں جھوٹے ثابت ہو چکے ہو۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تم گالیاں دیتے ہو اور اس کے باوجود خدا نے تمہیں پکڑا نہیں تو یہ بھی تمہارے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے کیونکہ آج تک میں نے کبھی دنیا کی کسی مذہبی کتاب میں گالیاں دینے کو سچائی کی دلیل کے طور پر نہیں پڑھا۔ ر کیسی جہالت ، کیسی بے وقوفی کیسی حماقت ہے کہ پاکستان کے علماء بھی اور وہاں اور وہاں ہندوستان کے علماء بھی بے انتہا گند بکتے ہیں اور آخر پر اعلان کر دیتے ہیں کہ دیکھو ہم نے اتنی گالیاں دی ہیں اور ہم پر خدا کا عذاب نازل نہیں ہوا اس لئے ہم سچے اور یہ جھوٹے ہیں۔ گالیاں بکنے والے تو خود عذاب میں مبتلا ہیں گالیاں ظاہر کرتی ہیں کہ سینوں میں آگئیں لگی ہوئی ہیں ۔ جب کچھ پیش نہ جائے تو جھلا کر لوگ اس قسم کی بکواس کیا کرتے ہیں ، عورتیں پاگل ہو جاتی ہیں جن کا بس نہیں چلتا ۔ وہ وہ پھکڑ تولتی ہیں، وہ گند بولتی ہیں اپنے دشمن پر کہ شریف آدمی سن بھی نہیں سکتا۔ ایک نفسیاتی معاملہ ہے اس کو کیوں نہیں سمجھتے کہ گالیاں دینے والا گالیاں دے کر یہ بتاتا ہے کہ میرے دل میں کیا آگ لگی ہوئی ہے۔ اسے کوئی سکون نصیب نہیں ہوتا۔ پس جتنا کوئی نیکوں اور پاکوں کو گالیاں دیتا ہے اتنا اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہے۔ اس کا سچا ہونا ثابت ہو کیسے ہو سکتا ہے۔ اور جماعت احمد یہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ خدا کے بچوں کے مکذبین کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ کیا جائے ۔ اب مجھے بتاؤ کہ کن گالیاں دینے والوں پر خدا کی طرف سے نازل ہوئیں ۔ قرآن کریم تو یہ فرماتا ہے کہ محمد مصطفی ﷺ کے دشمن یہ مطالبہ کیا کرتے تھے کہ بجلیاں نازل ہو۔ اصلى الله آسمان سے پتھراؤ کیوں نہیں کروا تا ہم پر، کیوں خدا ہم پر پتھر نازل نہیں کرتا ؟ اس لئے کہ ہم محمد رسول صلى الله اللہ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں دیکھ لو ہم سچے ہیں ۔ یہ اشارہ موجود ہے قرآن کریم کی ایک آیت میں اور واقعہ یہ ہے کہ وہ ابو جہل تھا جس نے یہ اعلان کیا تھا کہ دیکھو میں سب سے بڑا مکذب، سب سے بڑا شیطان ، سب سے زیادہ گالیاں دینے والا اور کوئی آسمان سے پتھر نازل نہیں ہوتے ۔ تو وہ لوگ جو گالیوں کے نتیجے میں سزا ما نگتے ہیں اور فوری سزا ما نگتے ہیں خدا کی تقدیر کو بدل نہیں سکتے اس کے طریق مختلف ہیں ۔ چنانچہ قرآن کریم تعجب سے ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے