خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 732
خطبات طاہر جلد ۸ 732 خطبه جمعه ۱۰ نومبر ۱۹۸۹ء کہ یہ لوگ جو لالچ دیتے ہیں اس کے نتیجے میں اکثر تو دھوکا ہے لیکن بعض دفعہ رزق ان کے لگا بھی دئے جاتے ہیں لیکن رزق ان لوگوں کے لگتے ہیں جو گند بولنے میں زیادہ بڑھے ہوئے ہوں اور تکذیب میں آگے جائیں ۔ غریب کے رزق نہیں لگتے وہ صرف دھوکا ہے ان کے ساتھ۔ چنانچہ میں نے اس بات کا بھی گہری نظر سے جائزہ لیا ہے اور وسیع نظر سے جائزہ لیا ہے۔ احمد یوں میں سے جو مرتد ہوتا ہے اس نے اگر اپنا رزق لگوانا ہے ان لوگوں سے تو اسے دن بدن زیادہ بکواس کرنی پڑے گی ۔ جتنا زیادہ وہ گند بولے گا اور تکذیب میں آگے بڑھے گا اتنے اس کے لئے رزق کے امکانات ہوں گے اور کچھ دروازے کھولے جائیں گے جہاں وہ خاموش ہو کے بیٹھا وہاں ردی کے طور پر پھینک دیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم اس مضمون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ (الواقعہ: ۸۳) کیسے جاہل اور بے وقوف لوگ ہو اس بات پہ رزق لگا بیٹھے ہو کہ تم تکذیب کرو لیکن یہ مرتد ہونے والے ہوتے ہی بے وقوف ہیں۔ ان بیچاروں کو اپنے نفع نقصان کی حقیقت کا علم نہیں ہوتا تو وہ رزق کی خاطر پھر گند بولتے ہیں اور دوسروں کو بھی لالچ دیتے ہیں کہ آؤ تا کہ ہم تمہارا رزق لگا ئیں ۔ اس کے برعکس مومنوں کی یہ شان ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وہ قربانی کرتے ہیں نہ صرف یہ کہ اپنے اموال غیروں کے سامنے لٹواتے ہیں بلکہ مومن ہونے کے بعد ہر حالت میں وہ دین کی خاطر خرچ کرنے لگ جاتے ہیں۔ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاء (آل عمران:۱۳۵) یہ ایسے لوگ ہیں جو اچھے حال میں ہوں تب بھی خرچ کرتے ہیں اور تنگ حال میں ہوں تب بھی خرچ کرتے ہیں اور مرتدین میں آپ کو کوئی بھی ایسا دکھائی نہیں دے گا۔ آپ سارے مرتدین کے حالات پر نظر ڈال کے دیکھ لیں وہ غیروں سے لینے والے تو ہیں ان کی خاطر دینے والے کچھ نہیں ہیں۔ جس مذہب کو بظاہر وہ سچا کہہ کر قبول کرتے ہیں اس مذہب کی خاطر کوئی قربانی نہیں کر رہے ہوتے۔ پس قرآن کریم نے تو اتنا کھول کھول کے یہ مضمون واضح فرما دیا ہے کہ کسی موٹی سے موٹی عقل والے کے لئے بھی یہ بات مشکل نہیں رہنے دی کہ ارتداد کیا ہوتا ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے؟ پس ان لوگوں نے جہاں تک زور لگایا جماعت کے اندر رخنہ پیدا کرنے کا اور ارتداد پیدا کرنے کا اس کا نتیجہ ماحصل صرف یہ ہوا کہ کچھ لوگ ایسے ان کو ملے جن سے جماعت ناراض تھی اور ان کے ساتھ ان