خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 729
خطبات طاہر جلد ۸ 729 خطبه جمعه ۱۰ نومبر ۱۹۸۹ء قربانی دینی پڑتی ہے اور ان کو کچھ لٹوانا پڑتا ہے اور کثرت کے ساتھ پاکستان اس بات کا گواہ ہے کہ اس شدت کی مخالفت کے دور میں جو دوست احمدی ہوئے ہیں وہ سارے کے سارے کچھ نہ کچھ مالی قربانی کر کے احمدی ہوئے ہیں۔ بعضوں کو تو کلیہ اپنے تمام اموال سے بے دخل کر دیا گیا۔ بعضوں کے چلتے چلتے کاروبار بند کرا دئے گئے ، ان کے ٹوٹل بائیکاٹ ہو گئے ۔ بعضوں کے اموال لوٹ لئے گئے بلکہ بیویاں بھی چھین لی گئیں اولا دیں بھی چھین لی گئیں۔ بعضوں کو نوکریوں سے نکالا گیا ، بعضوں کو ترقیوں سے محروم کیا گیا۔ غرضیکہ تمام احمدی ہونے والے اس بات پر گواہ بن گئے اور ان کے حالات ان پر گواہ بن گئے کہ وہ مومن ہیں کیونکہ مومن کی یہ نشانی خدا تعالیٰ نے بتائی ہے کہ وہ قربانی دے کر ایمان لاتا ہے۔ کسی سے پیسے لے کر یا جائدادیں قبول کر کے یا نوکریاں لے کر ایمان نہیں لایا کرتا۔ تو وہ چیز جو پہلے آپ کو مشتبہ دکھائی دیتی تھی یا متشابہ دکھائی دیتی تھی یہ سمجھتے تھے کہ اچھا ایک طرف سے ایمان ہے دوسری طرف سے ارتداد ہے دونوں میں سے سچائی کیا ہے۔ اب دیکھیں قرآن کریم کے مطالعہ کی روشنی میں کس طرح کھل کر الگ الگ واضح ہو کر دکھائی دینے والی چیزیں ہیں۔ ارتداد کی اور صفات ہیں، ایمان کی اور صفات ہیں اور ان دونوں میں کوئی اشتباہ نہیں ہے۔ جس طرح دن اور رات میں اشتباہ نہیں ہو سکتا اس طرح ایمان اور ارتداد میں کوئی اشتباہ نہیں ہو سکتا۔ لالچ دینے کا جہاں تک تعلق ہے کثرت کے ساتھ مجھے ایسے خط ملتے رہتے ہیں جہاں نوکر پیشہ احمدی لکھتے ہیں کہ ہمیں یہ کہا جا رہا ہے کہ تم صرف توبہ کر لو اور ہم تمہیں اگلی ترقی دے دیتے ہیں بلکہ جو پہلے تمہارے حقوق چھینے گئے تھے وہ سارے واپس کر دیں گے لیکن ہمارا ان کو جواب یہ ہے کہ ہم ان ترقیات کے منہ پر تھوکتے بھی نہیں ۔ پھر ایسے خط ملتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں نوکری سے نکالنے لگے ہیں اب وقت ہے کہ تم تو بہ کر لو اگر تم تو بہ کر لیتے ہو تو تمہاری نوکری بچ جاتی ہے۔ سینکڑوں ایسے احمدی ہیں جنہوں نے نوکریوں کو ٹھوکریں مار دیں اور ایک کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کی اور یہ جواب دیا کہ ہمارا رازق ہمارا خدا ہے تم ہمارے رازق نہیں ہو۔ نوکریوں کے بدلے اور رزق کے بدلے ہم اپنے ایمان کو بیچ نہیں سکتے ۔ اب یہ دیکھیں کتنا فرق ہے ارتداد اور ایمان میں ۔ مذہب تبدیل کروانے کی خاطر لالچیں