خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 727 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 727

خطبات طاہر جلد ۸ 727 خطبه جمعه ۱۰ نومبر ۱۹۸۹ء مضمون کو بارہا اتنا کھول کر بیان کیا ہے کہ کوئی کلیۂ عقل کا اندھا ہو تو اسے یہ دکھائی نہیں دے گا یا جس کے دل پر مہر لگ گئی ہو اس کو یہ بات سمجھ نہیں آئے گی ورنہ قرآن کریم تو اس مضمون کو اتنا کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور تاریخ مذاہب کے حوالوں سے اتنی وضاحت کے ساتھ یہ بات کھلی کھلی دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے کہ جبر کے نتیجے میں اگر ایمان تبدیلی کیا جائے تو اسے ارتداد کہتے ہیں اور ایمان اس کے برعکس ایک اور تفسیر رکھتا ہے۔ جبر کے باوجود اگر اپنادین بدلا جائے تو اس کو ایمان کہتے ہیں ۔ یعنی ایک طرف سے جبر اور تشدد موجود ہے اس کے ہوتے ہوئے ایک انسان اپنادین تبدیل کر لیتا ہے۔ ایسی تبدیلی ایمان کی علامت ہے ۔ قطع نظر اس بات کے کہ فی ذاتہ اس کا یہ فعل درست تھا یا غلط تھا لیکن ایک بات بہر حال اس سے ثابت ہو جاتی ہے کہ مذہب تبدیل کرنے والا اپنی ذات میں سچا ہے اور جو تبدیلی اس نے اختیار کی ہے وہ ایمان کے نتیجے میں ہے۔ تشدد اور دباؤ کے نتیجے میں نہیں تشد داور دباؤ اف ہے۔ ایک وجہ یہ قرآن کریم پیش کرتا ۔ کرتا ہے جو سب سے زیادہ موثر سے زیادہ مؤثر نظر آتی ہے یعنی تاریخ میں کے خلاف اس سے زیادہ موثر اور کوئی وجہ ارتداد کی دکھائی نہیں دی۔ چنانچہ آج کے حالات میں جو پاکستان پہ گزر رہے ہیں قرآن کریم کی اس کسوٹی پر ان کو پر کچھ کر دیکھیں تو خوب کھل جائے گا کہ کس کا ایمان ہے اور کس کا ارتداد ہے۔ سارے پاکستان میں جو گنتی کے چند احمدی وہ مرتد کرنے میں کامیاب ہوئے ان میں بلا استثناء جبر بھی تھا ، دباؤ بھی تھا اور ایک اور بھی چیز تھی جس کا قرآن کریم دوسری جگہ ذکر فرماتا ہے اور وہ ہے لالچ اور لالچ کا ذکر بھی قرآن کریم میں جگہ جگہ پھیلا ہوا ہے۔ شیطان ان کو لالچ دیتا ہے، ان کو دھو کے دیتا ہے ان کو بتاتا ہے تمہارے دنیاوی فوائد ہمارے ساتھ وابستہ ہیں تم گھاٹا کھاؤ گے اگر دوسرے مذہب کی طرف جاؤ گے۔ تو دوسرا مضمون قرآن کریم نے لالچ کا بیان کیا ہے اور یہ بھی ہمیں پاکستان کے حالات میں ہر جگہ صادق آتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک تیسرا مضمون یہ بیان فرمایا ہے کہ بعض لوگ دل کے گندے ہوتے ہیں اور ان کے اندر مرض موجود ہوتا ہے۔ حالات کی وجہ سے وہ مرض نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس مضمون کو ارتداد کے حوالے کے بغیر بھی بیان فرمایا گیا ہے اور ارتداد کے مضمون بیان ہوتے ہوئے بھی اس مضمون کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ یہ آیت جو يَمِينَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ( آل عمران: ۱۸۰) کے الفاظ ہیں کہ یہ