خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 719
خطبات طاہر جلد ۸ 719 خطبه جمعه ۳ نومبر ۱۹۸۹ء زندہ اور فعال بنانے کی ضروت ہے اور ان کا رابطہ اپنی امارتوں کے ساتھ بہترین بنانے کی ضرورت ہے تا کہ کسی قسم کے رخنہ کا کوئی سوال نہ رہے۔ پس یہ تنظیمیں اپنی امارتوں سے کیا تعلق رکھتی ہیں اور محبت اور ادب اور وفا کا تعلق ہے یا کوئی کیا اور تعلق ہے اس پر بھی میری نظر تبھی رہ سکتی ہے اگر ان کی رپورٹیں مجھے مل رہی ہوں اور میں پہچان رہا ہوں کہ ان میں کیا کیا باتیں پیدا ہو رہی ہیں ، کیا رجحانات ہیں ۔ پس آئندہ سے انشاء اللہ تعالیٰ اس طریق پر کام ہو گا تبھی میں نے اس دفعہ ربوہ میں ہونے والے مرکزی اجتماعات کے موقع پر جو انتخاب ہوگا ہوئے ان میں یہ واضح ہدایت بھیجی تھی کہ آپ اپنے اپنے ملک کے صدر کا انتخاب کریں اور وہاں عمداً مرکزی لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ ان کو میرا یہ پیغام سمجھ آیا یا نہیں لیکن ہدایت کے مطابق جو جو صدر بھی منتخب ہوئے ہیں وہ پاکستان کے صدران ہیں اور باقی دنیا کے تمام ذیلی تنظیموں کے آخری عہدیداران آج کے بعد صدر مجلس کہلائیں گے ۔ یعنی انگلستان میں صدر مجلس خدام الاحمد یه انگلستان ، صدر مجلس انصار الله انگلستان ، صدر مجلس لجنہ اماءاللہ انگلستان ہو گا اور اسی طرح باقی دنیا کے ملکوں کا حال ہوگا۔ اس سلسلے میں میں دعا کی بھی تحریک کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ جو قدم اٹھایا ہے یہ صرف لمبے مشوروں کے بعد نہیں بلکہ بہت لمبی دعا کے بعد اور بہت غور کے بعد اور تامل کے بعد اٹھایا ہے اور اور اس آخری شکل میں جب تک مجھے پوری طرح شرح صدر نصیب نہیں ہوا میں نے اس فیصلے کا اعلان نہیں کیا حالانکہ جلسے پر مشورہ دینے والے کہتے تھے کہ بالکل ٹھیک ہے: در کار خیر حاجت استخاره نیست فوراً اعلان کر دیں لیکن میرے دل پہ ابھی ایک بوجھ تھا کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے پوری فراست نصیب نہ ہو جائے اور پوری طرح شرح صدر نہ ملے اور دعاؤں کے ذریعے اس میں خیر نہ طلب کرلوں اس وقت تک یہ اعلان نہیں کرنا۔ تو آپ سے یعنی ساری جماعت سے میری درخواست ہے کہ دعا کے ذریعے میری مدد کریں کہ اللہ تعالی اس فیصلے کو درست اور بابرکت ثابت فرمائے اور کثرت کے ساتھ جماعت اس کی خیر کا پھل کھائے اور نظام جماعت تیزی کے ساتھ اپنی تکمیل کے وہ مراحل طے کرے جس کے بعد