خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 684 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 684

خطبات طاہر جلد ۸ 684 خطبه جمعه ۲۰ را کتوبر ۱۹۸۹ء پڑی میں نے بہت بہت خدا کا شکر ادا کریں گے تو مجھے اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بہت ہی جزا د ینے والا خدا اس جذ بہ تشکر کو بھی قبول فرمائے گا اور اس کی بڑھ چڑھ کر ہمیں جزا عطا فرمائے گا۔ نے مختلف قسم کے فقیر دیکھے ہیں۔ بعض فقیر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو آپ زیادہ بھی دے دیں تو ان کے چہرے سے شکر اور خوشی کے جذبات ظاہر نہیں ہوتے۔ان کے ماتھے پر سلوٹیں ہی رہتی ہیں ۔ بعض دفعہ پرانے زمانے میں میں نے دیکھا ہے کہ منے دیکھا ہے کسی فقیر کو ایک روپیہ بھی دو اس زمانے میں روپیہ بڑی چیز ہوا کرتا تھا ۔ تو وہ کہتا تھا ”بس ایہہ دتا اے؟“ یہی تھا تمہارے پاس اور کچھ نہیں تمہارے پاس۔ اور بعض فقیر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو ایک معمولی سی چیز بھی دے دو تو وہ فدا ہونے لگتے ہیں ، دعائیں دیتے ہیں ، اگلی نسلوں کو بھی دعائیں دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں یہ عطا کرے، یہ عطا کرے تم نے فقیر کا دل خوش کر دیا ہے ایسے فقیر کے لئے سب کچھ دے دینے کو جی چاہتا ہے۔ اگر انسان کے اندر یہ جذبہ موجود ہے تو یقیناً یہ دراصل خدا تعالیٰ سے ہم میں آیا ہے کیونکہ انسانی فطرت کو خدا تعالیٰ کے مزاج سے ایک ربط ہے۔ ویسا ہی ربط ہے جیسا ہر خالق کے ساتھ اس کی تخلیق کو ایک ربط ہوا کرتا ہے ۔ کہتے ہیں خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پہ پیدا کیا ۔ اس کا یہ مطلب تو یہ ہرگز نہیں کہ نعوذ باللہ ہم خدا کی صفات میں شریک ہو گئے ہیں اور خدا جیسے ہیں بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ جیسے ہر مصور اپنے مزاج اور اپنے تصور کی انتہائی چھلانگ کے مطابق ایک تصویر بناتا ہے اور اس تصویر کے نقوش اس کے ذہن کے نقوش سے ملتے ہیں ۔ اسی طرح خالق کا اپنی تخلیق کے ساتھ ایک گہرا رابطہ ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ میں تمہارے شکر کو قبول کرتے ہوئے تمہیں بہت زیادہ دوں گا تو یہ دراصل اللہ تعالیٰ کے شکر کا انداز ہے اور یہی جذبہ تشکر ہے جو نیک فطرت لوگوں میں پایا جاتا ہے خواہ وہ امیر ہوں خواہ وہ غریب ہوں ، خواہ وہ عطا کرنے والے ہوں خواہ وہ فقیر ہوں ۔ جنہوں نے خدا کے اس حسن سے حصہ پایا ہوان کے اوپر تھوڑا سا احسان بھی بڑے بڑے رنگ جماتا ہے اور وہ جذبہ تشکر سے مغلوب ہو کر دعائیں دیتے ہوئے اس احسان کو قبول کرتے ہیں۔ پس خدا کی خاطر اگر ہم خدا کے شکر گزار بندے بنیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ عطا کرنے والے سے بہت بڑھ کر جس کی عطا کے نتیجے میں کوئی فقیر اس کو دعائیں دیتا ہے، اس کا شکر گزار بنتا ہے اس سے بہت بڑھ کر اللہ تعالیٰ اس جذبے کو قبول فرمائے گا۔ اس فقیر کی دعاؤں کے