خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 671
خطبات طاہر جلد ۸ 671 خطبه جمعه ۱۳ را کتوبر ۱۹۸۹ء پس ایسے ہی بعض لوگ جو مجھے خطوں میں یہ باتیں لکھتے ہیں کہ ہم کیا کریں اور اس کا کیا جواب دیں ہمارا دل شدید بے چین ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ایک تو ظلم کرتے ہیں اس سے اوپر پھر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ہم ۔ یہ ہم مباہلہ جیت گئے ہیں دیکھ لو ۔ کیونکہ ہم گند بک رہے ہیں اور اس کے مقابل پر خدا تعالیٰ ہمیں کوئی سزا نہیں دے رہا۔ اس کا اصل جواب تو اس تاریخ میں مضمر ہے جو قرآن کریم نے ہمارے لئے محفوظ فرمائی ہے اور بکثرت گزشتہ انبیاء کی تاریخ کو دہراتے ہوئے خدا تعالیٰ بار بار ایسی قوموں کے حالات کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے جنہوں نے بعینہ یہی رویہ اختیار کیا جو آج جماعت احمد یہ کے مخالفت اختیار کر رہے ہیں اور اسی قسم کے انہوں نے بلند بانگ دعاوی بھی کئے کہ ہم دیکھ لو خدا کی غیرت کو للکار رہے الله ہیں تم پہ ظلم پر ظلم کرتے چلے جارہے ہیں اور اس کے باوجود تم مغلوب ہو اور ہم غالب ہیں۔ اس قسم کی تاریخ قرآن کریم میں آدم سے لے کر آنحضرت ﷺ کے زمانے تک کے واقعات کی محفوظ فرمائی اور مومنوں کو بارہا اس کی طرف متوجہ کیا۔ اس تاریخ میں جو بنیادی طور پر سبق دیا گیا ہے وہ تو صبر ہی کا ہے لیکن اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کے طرز عمل اور خدا تعالیٰ کی سنت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس دور میں اسے سمجھنا بہت ہی ضروری ہے ورنہ ہو سکتا ہے کہ دماغ بہک جائیں اور غلط نتیجے نکالا کریں۔ جس آیت کی میں نے تلاوت کی ہے یہ آل عمران کی ۱۸۷ آیت ہے۔ اس میں مومنوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا گیا لتُبْلَونَ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ تم ضرور آزمائے جاؤ گے اپنے مالوں کے نقصان کے ذریعے بھی اور جانوں کے نقصان کے ذریعے بھی اور صرف اسی پر دشمن بس نہیں کرے گا تمہارے مال لوٹے گا ، تمہارے اموال کو جلائے گا یا نقصان پہنچائے گا اور تمہاری جانیں تلف پر تلف کرے گا اور اس کے بعد وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرً ا ضرور تمہیں بڑی شدت کے ساتھ ان لوگوں کی طرف سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں کی طرف سے جو در حقیقت مشرک ہو چکے ہیں شدید تکلیفیں پہنچائی جائیں گی زبان کے ذریعے بھی۔ وَلَتَسْمَعُنَّ کا مطلب ہے تم سنو گے ان سے تکلیفیں تم ان کی طرف سے نہایت تکلیف دہ اور دل آزار باتیں سنو گے۔