خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 604
خطبات طاہر جلد ۸ 604 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۹ء پکڑنے میں تیزی کرتے ہیں اور ان کی باتوں کی طرف کم توجہ کرتے ہیں۔ اگر باتیں عظیم کردار کی ہوں اور بیچ میں سے کمزوری ہو تو بچہ بیچ کی کمزوری کو پکڑے گا۔ اس لئے لئے ہے یاد رکھیں کہ بچوں کی تربیت کے لئے آپ کو پ کو اپنی اپنی تربیت تربیت ضرور ضرور کرنی کرنی ہوگی ۔ ان بچوں کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچو! تم سچ بولا کرو تم نے مبلغ بننا ہے، تم بد دیانتی نہ کیا کرو تم نے مبلغ بننا ہے، تم غیبت نہ کیا کر وہ تم لڑا جھگڑا نہ کرو اور یہ باتیں کرنے کے بعد پھر ماں باپ ایسا لڑیں جھگڑیں، پھر ایسی مغلظات بکیں ایک دوسرے کے خلاف ایسی بے عزتیاں کریں پھر وہ کہیں کہ بچے کو تو ہم نے نصیحت کر دی ہے اب ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ جوان کی اپنی زندگی ہے وہی بچے کی بنے گی۔ جو فرضی زندگی انہوں نے بنائی ہوئی ہے کہ بچہ یہ کرو، بچے کو کوڑی کی بھی اس کی پرواہ نہیں ہوگی۔ ایسے ماں باپ جو جھوٹ بولتے ہیں وہ لاکھ بچے کو کہیں کہ جب تم جھوٹ بولتے ہو ہمیں بڑی تکلیف ہوتی ہے تم خدا کے لئے سچ بولا کر وسچائی میں زندگی ہے۔ وہ بچہ کہتا ہے ٹھیک ہے یہ بات لیکن اندر سے وہ سمجھتا ہے کہ ماں باپ جھوٹے ہیں اور وہ ضرور جھوٹ بولے گا۔ اس لئے دونسلوں کے جوڑ کے وقت یہ اصول کارفرما ہوتا ہے اور اس کو نظر اندار کرنے کے نتیجے میں آپس میں خلا پیدا ہو جاتے ہیں ۔ جن یورپین ممالک میں میں نے سفر کیا ہر ایک یہ شکایت کرتا ہے کہ ہماری نسل اور اگلی نسل کے درمیان ایک خلا پیدا ہو گیا ہے اور میں ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ یہ خلا تم نے پیدا کیا ہے ۔ تم نے زبانی طور پر ان کو اعلیٰ اخلاق سکھانے کی کوشش کی ۔ تم نے زبانی طور پر ان کو اعلیٰ کردار سمجھانے کی کوشش کی ۔ تم نے کہا کہ اس طرح خلط ملط نو جوانوں سے ٹھیک نہیں ، اس طرح تمہیں یہ حرکتیں کرنا مناسب نہیں ہے لیکن تمہاری زندگیوں میں اندرونی طور پر انہوں نے یہی باتیں دیکھی تھیں جن کے اوپر کچھ ملمع تھا، کچھ دکھاوے کی چادریں پہنائی گئی تھیں اور در حقیقت یہ بچے جانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ تم خود ان چیزوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہو اس لئے وہ وہ بنے ہیں جو تمہاری اندرونی تصویر ہے اور تم جو خلا محسوس کر رہے ہو اپنی بیرونی تصویر سے محسوس کر رہے ہو ۔ وہ تصویر جو تم دیکھنا چاہتے تھے ان میں جو تمہارے تصور کی دنیا تھی تمہارے عمل کی دنیا بن گئی لیکن تمہارے تصور کی دنیا کی کوئی تعبیر نہیں پیدا ہوئی اس لئے تم بظاہر اس کو خلا سمجھ رہے ہو حالانکہ یہ تسلسل ہے۔ برائیوں کا تسلسل ہے جس کی چوٹیاں بلندتر ہوتی چلی جا رہی ہیں یا اگر گہرائی کی ام اصطلاحوں میں